.

’’اسرائیل سے امن معاہدے کے بعد یواے ای خطے سے ’زیادہ مربوط‘ ہوگیا‘‘

یو اے ای کے لیے’نئے در‘وا ہوئے ہیں،اسرائیل سے تعلقات فطری انداز میں آگے بڑھیں گے: ہند العتیبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

’’اسرائیل کے ساتھ امن کے بعد متحدہ عرب امارات خطے کے ساتھ زیادہ مربوط ہوگیا ہے۔یہ امن ایک امید ہے ،خوش نما تبدیلی کا مظہر ہے اور اس سے ہم خود کو خطے سے زیادہ مربوط مگر کم غیر متعلق محسوس کررہے ہیں۔‘‘

یہ بات یو اے ای کی وزارتِ خارجہ کی تزویراتی ابلاغیات کی ڈائریکٹر ہند مانع العتیبہ نے منگل کے روز العربیہ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’ ہم یہاں یو اے ای میں یہ محسوس کررہے ہیں کہ ہم آگے بڑھ رہے ہیں،ہم اپنی شرائط پر تبدیلیاں لارہے ہیں ، چہ جائیکہ ہم اپنے یہاں از خود تبدیلی آنے کا انتظار کرتے۔‘‘

ہند العتیبہ کا کہنا تھا کہ ’’اس معاہدے سے یو اے ای کے لیے امکانات کے’’ نئے در‘‘ وا ہوئے ہیں۔میرے خیال میں تعلقات فطری انداز میں آگے بڑھیں گے ۔ یو اے ای اور اسرائیل اس کے لیے تیار ہیں۔ دونوں ممالک توانا اور فعال ہیں،وہ مستقبل پر نظر رکھنے اور آگے بڑھنے والے ہیں اور وہ مختلف شعبوں میں مثبت تبدیلیاں لانے کو تیار ہیں۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ ’’ بڑی تبدیلیاں روز بروز کا باہمی تعامل ہی نہیں بلکہ وہ یہ ہیں کہ مستقبل میں ہم مل جل کر کیا حاصل کریں گے۔‘‘

ان کے اس انٹرویو سے چندے قبل ایران کے رہبرِاعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کو تسلیم کرکے اسلامی دنیا اور فلسطینیوں سے غداری کا ارتکاب کیا ہے۔انھوں نے نے منگل کے روز ایک نشری تقریر میں کہا:’’یو اے ای کی غداری یقینی طور پر تادیر نہیں رہے گی لیکن اس شرم ناک اقدام کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔انھوں (اماراتیوں) نے صہیونی نظام کو خطے میں داخل ہونے کی اجازت دی ہے اور فلسطینیوں کو فراموش کردیا ہے۔‘‘

انھوں نے یو اے ای کے بارے میں سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ ’’اماراتی اسلامی دنیا ، عرب اقوام اور فلسطینیوں کے خلاف اس غداری کے بعد ہمیشہ کے لیے بے توقیر ہوجائیں گے۔‘‘

ایرانی عہدے دار امریکا کی ثالثی میں یو اے ای اور اسرائیل کے درمیان 13 اگست کو تاریخی امن معاہدے کے اعلان کے بعد سے تندوتیز بیانات جاری کررہے ہیں اور اس پر کڑی تنقید کررہے ہیں۔

ایرانی صدر حسن روحانی نے اس معاہدے کو ایک بڑی غلطی اور غداری قراردیا تھا۔اس کے ردعمل میں امارات کی وزارت خارجہ نے ابوظبی میں ایرانی سفارت خانے کے ناظم الامور کو طلب کیا تھا اور ان سے صدر روحانی کے بیانات پر سخت احتجاج کیا تھا۔اس نے ان بیانات کو اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’’اس کے خلیج عرب کے خطے کی سلامتی اور استحکام کے لیے سنگین مضمرات ہوں گے۔‘‘

ایران کے ہمسایہ دوسرے خلیجی عرب ممالک بحرین اور عُمان نے یو اے ای اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدے کا خیر مقدم کیا ہے اور ان دونوں ممالک نے کہا ہے کہ اس معاہدے سے علاقائی سلامتی کو تقویت ملے گی جبکہ فلسطینیوں نے اس کو مسترد کردیا ہے۔