.

ترکی کا تیل وگیس کے متنازع منصوبے میں‌ توسیع پراصرار، یورپ کی پابندیوں کی دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے بحیرہ روم میں تیل اور گیس کے وسیع تر ذخائر کی مزید تلاش اور ان کےحصول کے منصوبے پر اصرار کیا ہے۔ دوسری طرف یورپی ممالک نے ترکی پر پابندیوں کی دھمکی دی ہے۔

کل منگل کے روز ایک بیان میں ترک صدر نے کہا کہ ان کی حکومت بحیرہ روم میں گیس کی تلاش کے مشن میں توسیع کے اعلان پر قائم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں یہ کام ہرصورت میں‌ کرنا ہے۔ انہوں‌ نے ترک فوج کو تیل اور گیس کی تلاش کے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کی ہدایت کی۔ خیال رہے کہ بحیرہ روم میں تیل اور گیس کے متنازع ترک منصوبے پر انقرہ اور پڑوسی ملک یونان کے درمیان سخت کشیدگی پائی جا رہی ہے۔ یورپی ممالک اس تنازع میں یونان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے متنازع منصوبے پرعمل درآمد پر ترکی پر پابندیوں کی دھمکی دی ہے۔

ترکی نے اعلان کیا ہے کہ اس کا ایکسپلوریشن جہاز "اورچ رئیس" اب 12 ستمبر تک مشرقی بحیرہ روم کے ایک متنازعہ علاقے میں سروے کرے گا۔

ترک بحریہ نے ایک نیا نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ جہاز کا کام 12 ستمبر تک جاری رہے گا۔ اس سے قبل اسے ستمبر کے شروع تک کام کرنا تھا۔

نوٹس میں ایک مخصوص ایکسپلوریشن ایریا کا حوالہ دیا گیا ہے لیکن ترکی کے وزیر خارجہ مولود جاوش اوگلو نے ہفتے کے روز کہا تھا کہ یہ جہاز آہستہ آہستہ ترک صوبے انطالیا کے قریب آنے کے بعد اگلے 90 دن تک اس کا کام جاری رکھے گا۔

حال ہی میں ترک صدر نے دعویٰ کہا تھا کہ اس نے زیرسمندر گیس کے 320 بلین کیوبک میٹر ذخائر دریافت کیے ہیں۔