.

واشنگٹن کی قبرص پر عائد ہتھیاروں کی پابندی میں نرمی ... انقرہ حکومت چراغ پا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے بدھ کے روز اعلان کیا ہے کہ اس نے قبرص کو "غیر مہلک" عسکری ساز و سامان کی فروخت پر عائد پابندی جزوی طور پر ایک سال کے لیے اٹھا لی ہے۔ واشنگٹن کی جانب سے قبرص پر یہ پابندی 1987ء میں عائد کی گئی تھی۔

امریکی وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے قبرص کے صدر نیکوس اناستاسیادس کو اس فیصلے سے آگاہ کیا۔ اس طرح غیر مہلک دفاعی مواد کی برآمد ، از سر نو برآمد اور از سر نو منتقلی ،،، اور دفاعی خدمات پر سے پابندی اٹھا لی گئی ہے۔

امریکی کانگرس میں اس حوالے سے دسمبر 2019 ء میں ووٹنگ ہوئی تھی۔

امریکا نے یہ پابندی 1987ء میں عائد کی تھی۔ اس کا مقصد قبرص کے جزیرے کے دوبارہ یکجا ہونے کی حوصلہ افزائی کرنا تھا۔ اس کا شمالی حصّہ 1974ء سے ترکی کے قبضے میں ہے۔

تاہم بعد ازاں اس اقدام کا غیر مفید ہونا ظاہر ہو گیا بلکہ اس نے قبرص کی حکومت کی ہمت بڑھا دی کہ وہ جزیرے کی تقسیم کو ختم کیے بغیر دیگر شراکت داروں کا سہارا لے۔

ڈیموکریٹک سینیٹر بوب میننڈیز نے اس بات کے اعتراف کو سراہا کہ قابل اعتماد تزویراتی شراکت دار کی حیثیت سے قبرص کے ساتھ تعلق اہمیت کا حامل ہے۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ "ہتھیاروں پر عائد ان پرانی پابندیوں کو جن پر کئی دہائیوں سے عمل درامد ہو رہا ہے ،،، ان کو اٹھا لینا اور امن کے ساتھ اپنے تعلق کو گہرا بنانا ہمارے مفاد میں ہے"۔

تاہم دوسری جانب ترکی کی وزارت خارجہ نے اس پابندی کو جزوی طور پر اٹھا لینے کی شدید مذمت کی ہے۔ ساتھ ہی مطالبہ کیا ہے کہ امریکا اس فیصلے کو واپس لے کیوں کہ اس فیصلے کے قبرص کے مسئلے کا حل تلاش کرنے کے لیے جاری کوششوں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ ترک وزارت خارجہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایسا نہ ہوا تو ترکی ہر صورت میں تُرک قبرصیوں کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات کرے گا۔

ادھر امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے ایک بار پھر باور کرایا ہے کہ امریکا وفاقی اتحاد کے فریم ورک میں اس جزیرے کی دوبارہ یکجائی کے لیے ایک جامع حل کو سپورٹ کرتا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ نے جولائی میں اعلان کیا تھا کہ عسکری تربیت کے لیے فنڈنگ کی صورت میں قبرص کے ساتھ دفاعی تعاون کو مضبوط بنایا جائے گا۔