.

روسی اور امریکی فوجیوں کی سواریوں کے تصادم پر واشنگٹن کا ماسکو سے تشویش کا اظہار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایسا نظر آتا ہے کہ چند روز قبل شام میں روسی اور امریکی افواج کی گاڑیوں کے درمیان تصادم کا واقعہ توجہ سے محروم نہیں رہے گا۔

امریکی قومی سلامتی کے مشیر روبرٹ او'برائن نے انکشاف کیا ہے کہ امریکا نے اس حادثے پر روس کے سامنے اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ واقعے میں اس وقت متعدد امریکی فوجی زخمی ہو گئے تھے جب ان کی گاڑی روسی فوج کی گاڑی سے ٹکرا گئی۔

اوبرائن نے جمعے کی شام وائٹ ہاؤس میں ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ "اس معاملے کو انتہائی وضاحت اور مناسب سطح پر روس تک پہنچا دیا گیا ہے"۔

واضح رہے کہ امریکا کے دو ذمے داران نے چند روز قبل اس بات کی تصدیق کی تھی کہ شام میں روسی افواج کے ساتھ ایک حادثے میں امریکی فوجیوں کی ایک چھوٹی سی تعداد زخمی ہو گئی۔ ایک ذمے دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر بتایا کہ امریکی فوجی کسی فائرنگ کے تبادلے میں زخمی نہیں ہوئے بلکہ یہ گاڑیوں کے تصادم کا نتیجہ تھا۔ دوسرے ذمے دار کے مطابق یہ واقعہ رواں ہفتے شام کے شمال مشرق میں پیش آیا اور امریکی فوجیوں کی چوٹیں معمولی نوعیت کی ہیں۔

امریکی وزارت دفاع (پینٹاگان) اور مرکزی کمان نے واقعے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

اگرچہ امریکی اور روسی افواج کے درمیان اس نوعیت کی مڈبھیڑ کئی نادر بات نہیں تاہم یہ واقعہ ان خطرات کی تلوار پر پر روشنی ڈال رہا ہے جو شمالی شام میں دونوں ملکوں کی افواج کے ایک دوسرے کے قریب موجودگی کی صورت میں لٹک رہی ہے۔

وائٹ ہاؤس میں قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جان اولیوٹ کے مطابق تصادم کا واقعہ 25 اگست کو پیش آیا تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ بین الاقوامی اتحاد یا امریکا کسی بھی ملک کی عسکری فورس کے ساتھ جارحیت کے لیے کوشاں نہیں ہے۔ تاہم امریکی فوج کسی بھی معاندانہ کارروائی کے خلاف اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتی ہے۔

امریکی فوج عموما اپنے اہل کاروں کے زخمی ہونے پر تبصرہ نہیں کرتی ہے۔ تاہم گذشتہ ماہ مشرقی شام میں ایک فوجی گاڑی کے الٹ جانے کے واقعے میں ایک اہل کار ہلاک ہو گیا تھا۔

شمالی شام میں تقریبا 500 امریکی فوجی اب بھی موجود ہیں۔ اس سے قبل ملک میں داعش تنظیم کو اس کے تمام مضبوط مراکز سے نکال دینے کے لیے امریکی فوجیوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ بعد ازاں اس میں وسیع پیمانے پر کمی کی گئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں