.

شاہ عبدالعزیز لائبریری کی نایاب کتب میں‌ مُملکت کی قدیم تہذیبوں کا احوال پنہاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے دارالحکومت الریاض میں قائم شاہ عبد العزیز پبلک لائبریری میں موجود نادر ونایاب کتابوں کے مجموعوں میں اہم تاریخی ، آثار قدیمہ اور لسانی معلومات اور پرانی تہذیبوں کے احوالے پرمبنی کتب کا ایک بڑا ذخیرہ محفوظ ہے۔ان کتب میں شمال مغربی سعودی عرب میں ماضی کی پرانی تہذیبوں کا احوال ملتا ہے۔

اس کتب خانہ میں مغربی مسافروں کی سعودی عرب مملکت میں آمد ورفت کے دوران لکھی گئی متعدد کتابیں شامل ہیں۔ مغربی سیاح، طشنگان علم، اپنی پیاس بجھانے، اور مستشرقین اپنی علمی تحقیقات کے لیے مملکت کے شمال مغربی علاقوں کا سفر کرتے۔ اس علاقے کے سفر کے دوران لکھی گئی کتب کے لاطینی اور دوسری زبانوں میں تراجم کیے جاتے۔

لائبریری میں شامل نایاب کتابوں میں ایک انگریزی مسافر چارلس ڈوٹی کی کتاب بھی ہے جس نے جزیرہ نما عرب کے شمال میں سن 1875 اور 1877 عیسوی میں ریسرچ ٹرپ کیا۔ وہ ان مسافروں میں سے ایک ہیں جن جنہوں‌نے کتاب مقدس "بائبل" میں مدائن صالح جیسے مقامات کا کر سن کر سعودی عرب کےشمال مغربی علاقوں کا سفر کیا۔ اس مطالعاتی ٹور کے نتائج اور آثار قدیمہ کے مقامات پر مشتمل تفصیلات سنہ 1888 ء میں جاری کردہ ان کی کتاب "Travels In Arabia Deserta" میں‌بھی ملتی ہے۔

اسی دور میں فرانسیسی محقق چارلس ہیوبر نے آثار قدیمہ کے ماہر 'ایم یوٹنگ' کے ہمراہ سائنسی سفر کیا۔ اس سفر کی تفصیلات میں انہوں‌ نے ایسی دستاویزات حاصل کیں جن میں حمریہ ، آرام اور یونانی تہذیبوں اور ان کی باقیات کا مطالعہ کیا۔ انہوں‌ نے 1891 میں "Journal D'un Voyage En Arabie" کے نام سے کتاب تالیف کی۔ ۔ سنہ 1907 کے موسم بہار اور سنہ 1914 عیسوی میں فرانسیسی فاؤنڈیشن نے سعودی عرب کے شمال مغربی خطے خاص طور پر تیما ، العلا اور مداین صالح میں قدیم تہذیبوں اور ان کے آثار کی تلاش کے کھدائی شروع کی۔ان کھدائیوں کے دوران بترا مملکت کی باقیات کا پتا چلایا گیا۔ مداین صالح کا خطہ انباطیوں کا مرکز رہا ہے۔ علاء کا خطہ ایک اہم ثقافتی مرکز تھا اور اسے بترا مملکت میں مرکزی شہر کا درجہ حاصل تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں