.

اسرائیل اور یو اے ای کے سفارت کاروں کے درمیان افریقا میں پہلی کھلے عام ملاقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

نائیجیریا میں متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے متعیّن سفارتی ایلچیوں نے اتوار کے روز سرعام ملاقات کی ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان گذشتہ ماہ امن معاہدہ طے پانے کے بعد براعظم افریقا میں ان کے سفیر پہلی مرتبہ اس طرح کھلے عام ملے ہیں اور انھوں نے دوطرفہ دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

اسرائیلی حکومت کی طرف سے سوشل میڈیا پر جاری کردہ ویڈیوز اور تصاویر کے مطابق نائیجیریا میں متعیّن اسرائیلی سفیر شمعون بن شوشان نے اسی ملک میں تعینات یو اے ای کے سفارت خانے کے ناظم الامور خلیفہ المہریزی کا عربی زبان میں خیرمقدم کیا ہے اور اسلامی کلمات ’’السلام علیکم‘‘ (تم پر سلامتی ہو) ادا کیے ہیں۔

وہ ایک دفتر میں صوفہ کی نشستوں پر بیٹھے تبادلہ خیال کررہے ہیں اور ان کے نزدیک میز پر اماراتی اور اسرائیلی پرچم پڑے نظر آرہے ہیں۔

دونوں ملکوں میں تاریخی امن معاہدے کے اعلان کے بعد 18 اگست کو پہلا براہ راست رابطہ ہوا تھا۔ تب اسرائیل کی بیرون ملک کارروائیوں کی ذمے دار خفیہ ایجنسی موساد کے سربراہ یوسی کوہن نے متحدہ عرب امارات کے مشیر برائے قومی سلامتی شیخ تہنون بن زاید آل نہیان سے ابو ظبی میں ملاقات کی تھی۔ انھوں نے دونوں ملکوں کے درمیان سکیورٹی سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا تھا۔

اس کے بعد 31 اگست کو تل ابیب سے ایک براہِ راست پرواز امریکی ،اسرائیلی وفد کو لے کر ابو ظبی پہنچی تھی۔اس اسرائیلی طیارے نے تل ابیب کے بن گورین ہوائی اڈے سے اڑان بھری تھی اور یہ سعودی عرب کی فضاؤں میں پرواز کرتا ہوا ابو ظبی کے ہوائی اڈے پر اترا تھا۔

اس اسرائیلی امریکی وفد کی قیادت صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سینیر مشیر اور داماد جیرڈ کوشنر کررہے تھے۔ وفد میں امریکا کی قومی سلامتی کے مشیر رابرٹ او برائن اور اسرائیل کی قومی سلامتی کے مشیر میر بن شبات بھی شامل تھے۔

انھوں نے ابو ظبی میں اماراتی حکام سے مالیات ، صحت ، سیاحت ، سرمایہ کاری ، خارجہ امور ، سفارت کاری اور ثقافت کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا تھا۔

دونوں ملکوں کے درمیان 13 اگست کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تاریخی امن معاہدے کا اعلان کیا تھا۔توقع ہے کہ اس پر آیندہ دو ہفتوں کے دوران میں کسی وقت واشنگٹن میں اسرائیل اور یو اے ای کے ارباب اقتدار دست خط کریں گے۔