.

جسمانی معذوری کے باوجود سعودی دوشیزہ اپنے فن کا لوہا منوانے میں کامیاب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی جسمانی معذور دو شیزہ 'ربیٰ یحییٰ شیخین' ان دنوں سعودی عرب اور دوسرے عالمی اور علاقائی ذرائع ابلاغ کی توجہ کا مرکز ہیں۔ ربیٰ کی وجہ شہرت اس کی معذوری کی حالت میں فن کارانہ صلاحیت میں اوج کمال تک پہنچانا ہے۔

العربیہ ڈاٹ‌ نیٹ‌ کے مطابق جسمانی معذوری کا شکار 'ربیٰ یحییٰ شیخین' ایک فوٹو آرٹسٹ ہیں اور وہ خاکہ سازی میں گہری مہارت رکھتی ہیں۔

کئی سال قبل ایک جسمانی عارضے کے باعث ربیٰ چلنے پھرنے سے قاصر ہوگئی تھیں مگر اس نے اپنی معذوری کو اپنے آرٹ کے فروغ اور اسے بہتر کرنے میں رکاوٹ نہیں بننے دیا۔

ربیٰ شیخین کا کہنا ہے کہ سنہ 2009ء میں اسے کارٹون سازی کا شوق پیدا ہوا۔ اس وقت اس کے والد جازان میں اپنی ڈیوٹی دیتے تھے۔ میں نے اپنے والد کی تصویر پرمشتمل ایک پینٹنگ بنائی جہاں سے میرے اس آرٹ کے سفر کا باقاعدہ آغاز ہوگیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے اس نے بتایا کہ اس نے مصوری اور خاکہ سازی کے کئی مقابلوں میں حصہ لیا۔ عسیر کے علاقے میں ہونے والے اسکولوں کے ایک ملک گیر تصویری مقابلے میں اس نے پہلا نمبر حاصل کیا اور اسے گولڈ میڈل دیا گیا۔

اس کا کہنا ہے کہ میڈل حاصل کرنے کے بعد وہ معذور ہو گئی تھی مگر اس نے اپنا مشن جاری رکھا۔ وہ سعودی عرب میں ملک گیر سطح‌ پر ہونے والے تصویری مقابلوں میں حصہ لے کر ایوارڈ حاصل کرچکی ہیں۔

ربیٰ نے بتایا کہ آرٹ کو مزید جلا بخشنے میں اس کے شوق کو کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا مگر اس کے خاندان، اساتذہ اور دستوں نے اس کی ہرممکن مدد کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اسلامی اور عرب نقش و نگاری میں عرب اولمپک مقابلوں میں پانچویں پوزیشن حاصل کی۔