.

سعودی عرب: ینبع کے ساحل پر ریت کی شارک مچھلیوں اور کچھوؤں کی حقیقت کیا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے دو آرٹسٹوں نے ساحلی علاقے میں سیاحت کے فروغ کے لیے اپنے فن کا خوبصورت انداز میں مظاہرہ کرتے ہوئے عوام کی توجہ ینبع کے ساحل کی طرف مبذول کرانے کی منفرد کوشش کی ہے۔

العربیہ ڈاٹ‌ نیٹ‌ کے مطابق سعودی آرٹسٹ عبداللہ الحربی اور بندر البیشی نے صنعتی شہر ینبع کے ساحل پر ریت سے شارک مچھلیوں اور کچھوؤں کے ماڈل تیار کیے ہیں۔

انہوں‌ نے مملکت میں سیاحتی پروگرام 'تنفس' کو فروغ دینے کے لیے 'تنفس روح السعودیہ' کے سلوگن کو بھی ریت پر نقش کرنے کی کوشش کی جسے سوشل میڈیا پر غیر معمولی پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔

دونوں آرٹسٹوں نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ذہن میں ساحل پر کچھوؤں‌ کے ماڈل تیار کرنے کا خیال اس وقت آیا جب انھوں نے کچھوؤں کے کچھ اجزا دیکھے۔ انھوں نے ریت سے کچھوؤں کے بڑے بڑے ڈھانچے تیار کیے۔انھیں دور سے دیکھا جاسکتا ہے۔ وہ روزانہ آٹھ گھںٹے کام کرتے اور اس کام میں انھیں دو ہفتے لگ گئے۔

عبداللہ نے بتایا کہ سیاحوں اور زائرین نے انھیں شارک مچھلیوں اور کچھوئوں‌ کے نمونے بناتے دیکھا مگر ہم نے کسی سے مدد نہیں لی۔ اس علاقے میں آنے والے سیاحوں نے بھی ہماری حوصلہ افزائی کی اور ہماری فنکارانہ صلاحیت کو سراہا۔

دوسرے آرٹسٹ بندرالبیشی نے بتایا کہ انھیں ساحل سمندر پر اپنے آرٹ کے اظہار کے دوران سب سے زیادہ مشکل تیز ہوا کی وجہ سے پیش آئی۔ ہمیں خدشہ لاحق ہوا کہ کہیں ریت سے تیار کردہ یہ نمونے بکھر ہی نہ جائیں۔ انھوں نے سعودی عرب کی وزارت کھیل وامور نوجوانان کو اس طرح‌ کے فن کارانہ کاموں کی حوصلہ افزائی اور ان کی معاونت پر زور دیا۔