.

ایران کوراہ راست پرلانے کے لیے برطانیہ اسلحہ پابندی کے آپشن پرغورکرسکتا ہے:وزیرمملکت دفاع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ ایران کی خطے میں تخریبی سرگرمیوں کو نکیل ڈالنے کے لیے اسلحہ کی پابندی میں توسیع کے آپشن پر غور کرسکتا ہے۔ یہ بات برطانوی وزیر مملکت برائے دفاع بن ویلیس نے العربیہ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہی ہے۔

انھوں نے اس انٹرویو میں مختلف موضوعات پر تفصیل سے گفتگو کی ہے اور برطانیہ کی جانب سے اس یقین کا اظہار کیا ہے کہ 2015ء میں طے شدہ جوہری سمجھوتے کے ذریعے ہی ایران کی خطے میں تخریبی سرگرمیوں کی راہ روکی جاسکتی ہے۔

برطانیہ نے اس جوہری سمجھوتے میں شامل باقی تین ممالک جرمنی ،فرانس اور روس کے ساتھ مل کر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران کے خلاف اسلحہ کی پابندی میں توسیع سے متعلق قرارداد کی حمایت نہیں کی تھی اور اس کے خلاف ووٹ ڈالا تھا لیکن اس کے باوجود مسٹر بن ویلیس کا کہنا ہے کہ ایران پر اسلحہ کی پابندی ایک ایسا حربہ ہے جس پر برطانیہ مستقبل میں دوبارہ غور کرسکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’ہم فی الوقت تو ایرانیوں کو جوہری سمجھوتے کی پاسداری کا پابند بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔اسلحہ کی پابندی چند ایک ہفتے ہی میں ختم نہیں ہوگی بلکہ اس دوران میں ہم دوسرے فیصلے کرسکتے ہیں۔‘‘

مسٹر ویلیس نے واضح کیا ہے کہ ’’ایران کے خلاف عاید اسلحہ کی تجارت کی پابندی ختم کردی جاتی ہے تو تب بھی برطانیہ اس کے ساتھ کوئی فوجی تعلقات استوار نہیں کرے گا۔نیز اس نے گذشتہ کئی برسوں کے دوران میں ایران کو اس کی دہشت گردی کی حمایت اور تخریبی سرگرمیوں کی وجہ سے اسلحہ فروخت نہیں کیا ہے۔

انھوں نے کہا:’’ ایران کا خطے میں کردار یہ ہے کہ وہ دہشت گردی کی حمایت کررہا ہے،وہ خطے بھر میں تخریبی سرگرمیوں کو بڑھاوا دے رہا ہے۔لبنان میں حزب اللہ اور یمن میں حوثیوں کی حمایت کررہا ہے۔ان حالات میں برطانیہ کو ایران کے ساتھ فوجی تعاون یا اسلحہ کی فروخت میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ نیزوہ آبنائے ہُرمز سے گذرنے والے ہمارے تجارتی بحری جہازوں کو ڈراتا دھمکاتا رہتا ہے۔‘‘

واضح رہے کہ ایران پر اقوام متحدہ کی عاید اسلحہ کی پابندی 18 اکتوبر 2020ء کو ختم ہورہی ہے۔امریکا اس وقت اس پابندی میں توسیع کے لیے سفارتی کوششیں کررہا ہے اور وہ برطانیہ ایسے اپنے اتحادی ممالک پر زوردے رہا ہے کہ وہ ایران کے خلاف اس کی تحریک کی حمایت کریں۔

سعودی عرب سے گہرے تاریخی تعلقات

مسٹر ویلیس بہت جلد سعودی عرب کا دورہ کررہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ کے سعودی عرب کے ساتھ گہرے تاریخی تعلقات استوار ہیں۔

انھوں نے العربیہ کو بتایا کہ ’’ سعودی عرب اور برطانیہ کے درمیان گذشتہ قریباً ایک سو سال سے گہرے تاریخی تعلقات استوار ہیں اور ہم کئی ایک امور پر ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے رہے ہیں۔ہمارے درمیان تعلقات صرف دفاعی مصنوعات کی فروخت اور دفاعی شراکت داری تک محدود نہیں ہیں‘‘۔

ان کا کہنا تھا کہ’’ برطانیہ نے سعودی عرب کو ایران یا اس کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے یمن سے حملوں میں محفوظ رکھنے میں مدد کی ہے اور وہ سعودی عرب کو اسلحہ کی فروخت کا سلسلہ جاری رکھے گا۔‘‘

بن ویلیس اسی ہفتے سعودی عرب کے دورے پر آرہے ہیں۔ وہ سعودی عرب کے نائب وزیر دفاع اور دوسرے اعلیٰ دفاعی اور عسکری عہدے داروں سے ملاقات کریں گے اور ان سے دونوں ملکوں کے درمیان دفاعی شعبے میں دو طرفہ تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کریں گے۔