فرانس: 17 برس قبل موت کے طالب نے صدر سے سہل مرگی کی اپیل کی تو پھر کیا ہوا ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

گذشتہ دنوں کے دوران فرانس میں سامنے آنے والے ایک 57 سالہ شہری ایلن کوک کے معاملے نے ملک میں سہل مرگی کے حوالے سے مزید سوالات کو جنم دیا ہے۔ مذکورہ فرانسیسی ایلن کوک کئی برس سے ایک ناقابل علاج مرض میں مبتلا ہے۔ ایلن نے اپنی بیماری سے نجات حاصل کرنے کے لیے فرانسیسی صدر عمانوئل ماکروں سے اپیل کی تھی کہ اسے "سہل مرگی کا حق" دیا جائے۔ تاہم ماکروں نے اس اپیل کو مسترد کرتے ہوئے باور کرایا کہ فرانس کا قانون مریض کو طبی معاونت سے "موت کا حق" دینے سے روکتا ہے۔

لہذا اپنی چاہت پوری کرنے کے لیے اب ایلن نے اپنا علاج روک دیا ہے۔ مزید یہ کہ اس نے اپنی زندگی کے آخری لمحات کو براہ راست فیس بک پر نشر کرنے کا بھی ارادہ کیا۔ تاہم فیس بک کی انتظامیہ نے ایلن کے لیے لائیو براڈکاسٹ کا آپشن بلاک کر کے اس اقدام کو روک دیا۔

ایلن کوک کی کہانی نے لوگوں کو اسی سے ملتے جلتے ایک اور واقعے کی یاد تازہ کر دی ہے۔ یہ واقعہ 17 برس قبل پیش آیا تھا اور یہ فرانسیسی قانون میں بعض ترامیم کا سبب بن گیا۔

فرانسیسی شہری ونسینٹ ہیمبرٹ کا قصہ 24 ستمبر 2000ء سے شروع ہوتا ہے۔ اس روز 19 سالہ فرانسیسی فائر فائٹر (Vincent Humbert) ٹریفک کے ایک خوف ناک حادثے میں شدید زخمی ہو گیا۔ ہیمبرٹ کی گاڑی ایک ٹرک سے ٹکرا گئی تھی۔ اسے بے ہوشی کی حالت میں (Rouen) ہسپتال منتقل کیا گیا۔

تقریبا 9 ماہ بے ہوش رہنے کے بعد ہیمبرٹ کو ہوش آیا تو اس نے خود کو دونوں بازوؤں اور دونوں ٹانگوں کے فالج میں مبتلا پایا۔ اس بینائی بھی جا چکی تھی اور وہ بات کرنے پر بھی قادر نہیں تھا۔ بعد ازاں 30 نومبر 2002ء کو ہیمبرٹ نے کسی طریقہ سے اس وقت کے فرانسیسی صدر یاک شیراک کو پیغام ارسال کروایا کہ اسے سہل مرگی کی اجازت دی جائے۔

شیراک نے ہیمبرٹ کی درخواست مسترد کرتے ہوئے باور کرایا کہ یہ فرانسیسی قانون کے منافی ہے۔ صدر کا کہنا تھا کہ وہ اس کی اجازت دینے کا اختیار نہیں رکھتے۔

آخری راستے کے طور پر ہیمبرٹ کی ماں میری نے 24 ستمبر 2003ء کو اپنے بیٹے کو (pentobarbital) دوا کی بڑی مقدار میں خوراک دے دی۔ اس کے نتیجے میں ہیمبرٹ گہری بے ہوشی میں چلا گیا۔ اسے فوری طور پر انتہائی طبی نگہداشت کے شعبے میں ڈاکٹر فریڈرک شوسوا کی نگرانی میں دے دیا گیا۔ ہیمبرٹ کی والدہ کو مختصر وقت کے لیے گرفتار کر لیا گیا۔

آخر کار ہیمبرٹ کے اہل خانہ کے ساتھ مشاورت کے بعد ڈاکٹر فریڈرک شوسوا نے تمام طبی آلات کو ہیمبرٹ سے ہٹا دیا۔ اس کے کچھ دیر بعد 22 سالہ ہیمبرٹ دنیا سے رخصت ہو گیا۔

بعد ازاں سرکاری استغاثہ کی جانب سے میری ہیمبرٹ اور ڈاکٹر فریڈرک شوسوا کے خلاف دانستہ قتل کے الزام میں مقدمہ دائر کیا گیا۔ تاہم یہ مقدمہ سماعت کے بغیر ہی ختم ہو گیا۔

اس کے چند برس بعد فرانس کی پارلیمنٹ نے جملہ مشاورت کے بعد ایک قانون کی منظوری دی۔ قانون کے تحت طبی طریقے سے مریضوں کو موت کی نیند سلانے کو جرم قرار دیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی پیچیدہ ترین امراض میں مبتلا مریضوں کے لیے آخری مراحل میں موت کو آسان بنانے کے واسطے اصول و ضوابط کا تعین کیا گیا۔ ان کی رُو سے ایسے مریض علاج کا سلسلہ روک کر موت کو گلے لگا سکتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں