ٹرمپ صدر نہ بنے تو امریکا ایک 'نائن الیون' کا سامنا کرسکتا ہے: نور بن لادن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

القاعدہ کے بانی سربراہ مقتول اسامہ بن لان کی بھتیجی نور بن لادن خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا میں آئندہ صدارتی انتخابات میں جوبائیڈن صدر منتخب ہوئے تو امریکا پر 9/11 کے دہشت گردانہ حملوں جیسا ایک اور حملہ ہوسکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکا کو ایک اور نائن الیون سے صرف موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہی بچا سکتے ہیں۔

نیویاکر پوسٹ کے مطابق نور بن لادن نے کہا کہ اوباما / بائیڈن انتظامیہ کے تحت داعش پھیلی ۔ یہاں تک کہ داعشی جنگجو یورپ پہنچ گئے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے ثابت کیا ہے کہ وہ دہشت گردوں کو ختم کرکے بیرونی خطرات سے امریکہ اور یورپ کو بچانا چاہتے ہیں۔ ٹرمپ دہشت گردوں کو حملہ کرنے سے قبل ہی انہیں جڑ سے اکھاڑ پھینکنا چاہتے ہیں۔

نور بن لادن سوئٹزرلینڈ میں رہائش پذیر ہیں لیکن ان کا کہنا تھا کہ وہ خود کو "دل سے امریکی" سمجھتی ہیں۔ نور بن لادن جو سوئٹزرلینڈ میں پیدا ہوئی نے مزید کہا کہ وہ 2020 کے انتخابات میں ٹرمپ کی حمایت کرتی ہیں اور انتخابات کو اس نسل کے لیے سب سے اہم قرار دیتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں نے صدر ٹرمپ کی حامی رہی ہوں۔ جب سے انہوں نے 2015 کے ابتدائی دنوں میں اپنی امیدواریت کا اعلان کیا میں ان کی حامی ہوں۔ میں نے ٹرمپ کو قریب سے نہیں دیکھا اور میں اس شخص کی مداح ہوں۔ انہیں دوبارہ منتخب کیا جانا چاہیئے۔ یہ نہ صرف امریکہ کا بلکہ مجموعی طور پر مغربی تہذیب کے مستقبل کے لیے بھی اہم ہے۔

نور بن لادن انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ 19 سالوں کے دوران یورپ میں ہونے والے تمام دہشت گردانہ حملوں کو دیکھو۔ ان حملوں نے ہمیں مکمل طور پر جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ بنیاد پرست اسلام نے ہمارے پورے معاشرے اور امریکا میں گھس کر نقصان پہنچایا۔ یہ بات انتہائی پریشان کن ہے کہ بائیں بازو نے اس میں شریک لوگوں کے ساتھ مکمل طور پر ساتھ دیا ہے۔

نور بن لادن نے کہا کہ اس وقت آپ کی امریکا میں الہان عمر جیسے لوگوں‌ کو دیکھتے ہیں جو امن سے نفرت اور دہشت گردوں کی حمایت کرتے ہیں۔ یہ الھان عمر ہی تھیں جنہوں‌ نے دعاش کے پکڑے گئے 13 دہشت گردوں کو معاف کرنے کی ترغیب دی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں