.

کساد بازاری اورآئی ایم ایف کی پیشین گوئی کے باوجود سعودی معیشت بہتررہے گی:وزیرخزانہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی وزیر خزانہ محمد الجدعان نے کہا ہے کہ 2020ء میں کرونا وائرس کی وَبا کے نتیجے میں کساد بازاری کی وجہ سے مملکت کی معیشت کا حجم کم رہے گا مگر عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی پیشین گوئی کی برعکس سعودی معیشت بہتر ہی رہےگی۔

انھوں نے ایک ورچوئل فورم میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’مجھے امید ہے اور میں کرسٹلینا (جارجیفا) کو چیلنج کررہا ہوں کہ وہ 2020ء میں جس منفی شرح نمو کی بات کررہی ہیں،ہم اس سے بہتر ہی رہیں گے۔‘‘وہ آئی ایم ایف کی سربراہ کرسٹلینا جارجیفا کے بعد اس ورچوئل فورم میں گفتگو کررہے تھے۔

آئی ایم ایف نے یہ پیشین گوئی کی ہے کہ اس سال سعودی عرب کی معیشت 6۰8 فی صد سکڑے گی ۔قبل ازیں سعودی حکام یہ کہہ چکے ہیں کہ یہ اندازہ ان کے اپنے اندازوں سے کہیں زیادہ مایوس کن اور ناامیدی کا مظہر ہے۔

دنیا میں سب سے زیادہ تیل پیدا کرنے والے ملک کو اس وقت دُہرے چیلنج کا سامنا ہے۔ ایک جانب کرونا وائرس کی وبا کے معیشت پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں اور دوسری جانب عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی واقع ہوچکی ہے۔

محمد الجدعان نے اس جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’ ہمیں تیل کی مارکیٹ کے جھٹکے کا سامنا کرنا پڑا ہے اور ہماری آمدن میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے لیکن ہم پورے سال کے دوران میں اس تمام معاملے سے بخوبی نمٹے ہیں۔ہم 2021ء میں صحت مندانہ بڑھوتری دیکھیں گے۔‘‘

دریں اثناء سعودی عرب کے مرکزی بنک کے گورنر نے بدھ کو الگ سے ایک تقریب میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی معیشت کی ظاہری تصویر غیر یقینی ہے لیکن ہمیں پختہ یقین ہے کہ سعودی عرب کا مالیاتی سیکٹر مستحکم رہے گا۔