.

امریکا نے ایک ہزار سے زیادہ چینی شہریوں کے ویزے منسوخ کر دیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزارت خارجہ کے ایک اعلان کے مطابق اس نے چینی عوام کے لیے 1000 سے زیادہ ویزے منسوخ کر دیے ہیں۔ بدھ کے روز جاری بیان میں وزارت خارجہ نے اس اقدام کا جواز پیش کرتے ہوئے بتایا کہ جن افراد کے ویزے منسوخ کیے گئے ان کے چینی عسکری محکموں کے ساتھ روابط ہیں۔

امریکی حکام نے چین کے بعض گریجویٹس اور محققین کے لیے ویزوں پر پابندی بھی عائد کر دی ہے تا کہ حساس نوعیت کی علمی تحقیقات کے سرقے کو روکا جا سکے۔ یہ بات امریکی نیشنل سیکورٹی کونسل کے ناظم الامور چیڈ وولف نے بدھ کے روز بتائی۔

واشنگٹن میں خطاب کے دوران چین کے خلاف امریکی الزامات کی تصدیق کی۔ اس میں تجارتی اور اکیڈمک تبادلے کی پالیسیوں کا غیر منصفانہ استعمال اور ان سے فائدہ اٹھاتے ہوئے چین کی حکمراں جماعت کمیونسٹ پارٹی کے مفاد میں جاسوسی انجام دینا شامل ہے۔ ان کارروائیوں میں کرونا وائرس سے متعلق خصوصی علمی تحقیقات کا سرقہ اور غیر ملکی طلبہ کے لیے مخصوص ویزوں سے ناجائز فائدہ اٹھانا ہے۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے جولائی میں ٹیکساس ریاست کے شہر ہیوسٹن میں چینی قونصل خانے کی بندش کے احکامات جاری کیے تھے۔ یہ قدم قونصل خانے کی جانب سے جاسوسی اور انٹلیکچوئل پیٹینٹ کی چوری انجام دینے کے سبب اٹھایا گیا۔

امریکی حکام کے مطابق سان فرانسسکو میں چین کے قونصل خانے میں روپوشی اختیار کرنے والی ایک چینی محققہ کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ اب سے عدالت کے سامنے پیش کیا جانا ہے۔ یہ خاتون سائنسی تحقیق کرنے کے بہانے امریکا میں داخل ہوئی تھی جب کہ وہ چینی فوج کے لیے کام کر رہی تھی۔

امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کے مطابق خوان تانگ نامی اس خاتون اور امریکا میں دیگر چینی محققین کو اس لیے حراست میں لیا گیا کہ ان کے پاس موجود ویزے دھوکہ دہی کے طریقے سے حاصل کیے گئے تھے۔