.

پومپیو نے عراق سے امریکی فوج کے جزوی انخلا کی وجہ بتا دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے افغانستان اور عراق میں تعینات امریکی فوجیوں کے ایک حصے کے انخلا سے متعلق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے منصوبوں کا دفاع کیا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق یہ اقدامات "انسداد دہشت گردی کے حوالے سے صدر کی مؤثر حکمت عملی" کی بدولت ممکن ہوئے ہیں۔

بدھ کی شام فوکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ (عراق اور افغانستان میں) "فوجیوں کی تعداد کم کرنے کے حوالے سے صدر کے فیصلوں سے ہمارے نوجوان مرد اور خواتین کے لیے خطرات میں کمی آئے گی اور اسی طرح ٹیکس ادا کرنے والے امریکیوں پر بوجھ بھی کم ہو گا"۔

پومپیو نے مزید کہا کہ ہم یہ سب اقدامات تشدد کے واقعات اور شدت پسندوں کی تعداد میں کمی آنے کی بنیاد پر اٹھا رہے ہیں۔

دوسری جانب امریکی بحریہ کے ایک ریٹائرڈ جنرل جیمز اسٹافریڈس اپنے ایک مضمون میں اس منصوبے کو تنقید کا نشانہ بنا چکے ہیں۔ جنرل جیمز کے مطابق یہ منصوبہ آخر کار داعش، ایران، روس اور شامی حکومت کے لیے منفعت بخش ثابت ہو گا۔ امریکی جنرل نے عندیہ دیا کہ اس منصوبے کا خصوصی سیاسی زاویہ ہے کہ یہ صدارتی انتخابات سے قبل سامنے آیا ہے۔

البتہ پومپیو نے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے کہ یہ فیصلہ سیاسی وجوہات کی بنیا پر کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "میں ابتدا سے ہی امریکی انتظامیہ میں ہوں۔ پہلے میں سی آئی اے کا سربراہ تھا اور اب وزیر خارجہ ہوں۔ ہمارے کام کی توجہ ہمیشہ دہشت گردی کے انسداد ، امریکا کے تحفظ اور لاگت میں کمی پر مرکوز رہی ہے ، خواہ وہ مالی صورت میں ہو یا جانی صورت میں"۔

ایرانی جوہری معاہدے سے علاحدگی کے حوالے سے پومپیو کا کہنا تھا کہ سابق صدر باراک اوباما کی انتظامیہ نے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے لیے ایران کو واضح راستہ دے دیا تھا۔ تاہم وائٹ ہاؤس انتظامیہ نے اب ایرانی حکومت کے لیے زندگی کو مشکل بنا دیا ہے۔

جہاں تک روس کا تعلق ہے تو اس حوالے سے پومپیو نے کہا کہ موجودہ انتظامیہ نے ماسکو کو سنجیدگی کے ساتھ ایک حریف کے طور پر لیا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ کے مطابق ان کی وزارت ایک ٹیم کی قیادت کر رہی ہے جو نیوکلیئر ہتھیاروں کے خطرات پر روک لگانے کے لیے اسٹریٹجک ڈائیلاگ شروع کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔ موجودہ امریکی انتظامیہ نے روس پر حقیقی دباؤ ڈالا ہے۔

پومپیو نے مزید کہا کہ "میں سمجھتا ہوں کہ ہم نے اب تک 200 سے 300 (روسی) افراد پر پابندیاں عائد کی ہیں۔ موجودہ انتظامیہ نے روسی چیلنج کو سنجیدگی سے لیا ہے تا کہ امریکا کی پوزیشن کو محفوظ موقف پر رکھنے اور امریکیوں کے امن و سلامتی کو تحفظ فراہم کرنے کی کوشش کی جا سکے"۔