.

چینی کیمونسٹ پارٹی بیجنگ میں امریکی کمپنیوں‌ کو مسابقت سے روک رہی ہے:پومپیو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا ہے کہ چین کی حکمراں کمیونسٹ پارٹی بیجنگ میں امریکی کمپنیوں کو مسابقت سے روک رہی ہے۔

پومپیو کے یہ ریمارکس واشنگٹن اور بیجنگ کے مابین کشیدہ تعلقات کے تناظر میں سامنے آئے ہیں۔ چند روز قبل انہوں‌ نے اعلان کیا تھا کہ چینی کمپنیوں اور چینی کمیونسٹ پارٹی کے عہدیداروں پر پابندیاں عائد کی جائیں گی۔ انھوں نے یہ الزام لگایا کہ بیجنگ جنوبی سمندری علاقوں میں عسکری سرگرمیوں کو ہوا دے رہا ہے۔

دوسری طرف امریکی محکمہ تجارت نے 24 چینی سرکاری کمپنیوں کو بلیک لسٹ میں شامل کیا ہے۔ ان میں چائنا ٹیلی کام کمپنی کی شاخیں بھی شامل ہیں جن پر یہ الزام لگایا گیا ہے کہ وہ جزیروں میں چینی فوج کی مدد کر رہی ہیں۔

گذشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی معیشت کو چین سے الگ کرنے کے امکان کا تذکرہ کیا تھا۔ اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ دنیا کی دو بڑی معیشتوں کو ایک دوسرے سے الگ کیا جائے۔

ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے باہر ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ جب آپ چینی معیشت سے 'علاحدگی' کے لفظ کا ذکر کرتے ہیں تو یہ ایک دلچسپ لفظ ہے۔

امریکی صدر نے اشارہ کیا کہ امریکا اس طرح کا اقدام اٹھانے سے معاشی طور پر فائدہ اٹھا سکتا ہے اور بیجنگ کو اپنے غیر منصفانہ تجارتی طریقوں پر تنقید کا نشانہ بنا سکتا ہے۔

دونوں ممالک کے مابین تجارتی جنگ ، ٹیکنالوجی ، جنوبی چین کے کنٹرول ، ہانگ کانگ میں مداخلت ، کرونا وائرس کے پھیلنے سمیت دیگر امور پر تنازعات پائے جاتے ہیں۔

ٹرمپ نے رواں سال کے اوائل میں چین کے ساتھ مرحلہ ون تجارتی معاہدے پر دستخط کیے تھے لیکن کرونا وائرس پھیلنے کے بعد امریکا نے چین پر وبا پھیلانے کا الزام عاید کیا جس کے بعد دونوں ملکوں‌میں‌ ایک بار پھر کشیدگی پیدا ہو گئی تھی۔