.

لبنانی عہدیداروں پر پابندیاں خارج ازمکان نہیں: فرانس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانسیسی صدارتی ذرائع نے جمعرات کو العربیہ کو بتایا کہ پیرس لبنان میں نئی حکومت تشکیل دینے کی کوششوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

ذرائع نے مزید کہا کہ لبنانی عہدیداروں کے خلاف فرانسیسی پابندیوں کو خارج ازمکان قرار نہیں دیا جا سکتا لیکن اگر حکومت کی تشکیل کے لیے بات چیت ہوتی ہے تو ہم پابندیوں میں جلد بازی نہیں کریں گے۔

ذرائع نے اس بات کی تردید کی ہے کہ لبنانی میڈیا نے دسمبر میں صدر عمانویل میکروں کے لبنان کے دورے کی منسوخی کا دعویٰ‌کیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر کے آئندہ دسمبر میں دورہ بیروت کی منسوخی کی خبر غلط ہے۔

ادھر ایک لبنانی عہدیدار نے کہا ہے کہ پیرس میں ایک سینیر سیکیورٹی اہلکار نے فرانسیسی انٹلیجنس کے سربراہ برنارڈ ایمی کے ساتھ لبنانی حکومت کی تشکیل کے بارے میں بات چیت کی ہے۔ لبنان میں آئندہ ہفتے نئی حکومت کی تشکیل متوقع ہے۔

فرانس لبنان کے منقسم سیاستدانوں کو ایک نئی مخلوط حکومت تشکیل دینے کے لیے قائل کررہا ہے جو ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کے لیے اصلاحات لائے۔ ورنہ لبنان میں 1975 اور 1990ء کے ادوار جیسی خانہ جنگی چھڑنے کا خدشہ ہے۔

یکم ستمبر کو صدر عمانویل میکروں نے بیروت کے دورے کے دوران کہا تھا کہ لبنانی رہ نماؤں نے دو ہفتوں میں حکومت بنانے پر اتفاق کیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ فرانسیسی روڈ میپ میں طے شدہ اصلاحات پر عمل درآمد کے لیے اگلے ہفتے کے اوائل تک حکومت تشکیل دی جانی چاہیئے۔

ماضی میں لبنان میں حکومت بنانے میں کئی مہینوں کا وقت لگتا رہا ہے۔ اس کی وجہ لبنان میں‌ فرقہ وارانہ گروپوں کی سیاست میں مداخلت بتائی جاتی ہے۔

ایک سفارت کار نے رائیٹرز کو بتایا کہ ااس بار ہم سب امید کرتے ہیں کہ لبنان میں نئی حکومت کی تشکیل اپنی مقرر کردہ ڈیڈ لائن کے اندر ہی تشکیل پا لے گی۔