.

یواے ای: پہلی مرتبہ ایک دن میں کووِڈ-19 کے 1000 سے زیادہ کیسوں کی تشخیص

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات میں گذشتہ 24 گھنٹے میں پہلی مرتبہ کووِڈ-19 کے ایک ہزار سے زیادہ کیسوں کی تشخیص ہوئی ہے اور مختلف علاقوں میں 1007 نئے کیس ریکارڈ کیے گئے ہیں۔

یو اے ای میں اب کووِڈ-19 کے تصدیق شدہ کیسوں کی تعداد 78849 ہوگئی ہے۔ہفتے کے روز اس مہلک وائرس کا شکار مزید 521 مریض تن درست ہوگئے ہیں اور اب تک صحت یاب ہونے والے کل مریضوں کی تعداد 68983 ہوگئی ہے۔

یو اے ای کی وزارت صحت نے ہفتے کے روز بتایا ہے کہ اس مہلک وائرس کا شکار ایک اور مریض وفات پا گیا ہے۔اب تک ملک میں کووِڈ-19 کے مرض میں مبتلا 399 مریض وفات پا چکے ہیں۔

دریں اثناء دبئی میں مختلف کاروباری اداروں کو کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے حفاظتی احتیاطی تدابیر اختیار نہ کرنے پر جرمانے عاید کیے گئے ہیں اور بعض دکانوں یا کاروباری مراکز کو سماجی فاصلے کی پابندی نہ کرنے پر بند کردیا گیا ہے۔

اماراتی حکومت نے شہریوں اور مکینوں پر زوردیا ہے کہ وہ کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔

حکومت کے ترجمان نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ گذشتہ دو ہفتے میں ریکارڈ کیے گئے مریضوں میں 12 فی صد ایسے شہری اور مکین ہیں، جو بیرون ملک سے حال ہی میں لوٹے ہیں۔ان کے پاس پی سی آر ٹیسٹ کے منفی نتائج کے ثبوت بھی تھے لیکن وہ یو اے ای میں آمد کے بعد 14 روز تک گھروں میں قرنطین میں رہنے سے متعلق ہدایات کی پاسداری میں ناکام رہے ہیں۔

یو اے ای میں گذشتہ دو ہفتے کے دوران میں کووِڈ-19 کے کیسوں کی یومیہ تعداد میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔اس عرصے میں تشخیص شدہ 88 فی صد کیس ان افراد کے ہیں جو سماجی فاصلہ برقرار رکھنے کے پروٹول اور پیشگی حفاظتی احتیاطی تدابیر کی پاسداری میں ناکام رہے ہیں۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ کووِڈ-19 کا شکار ہونے والے بیشتر افراد نے شادی کی تقریبات میں شرکت کی ہے، وہ بڑے بڑے اجتماعات اور جنازوں میں شریک ہوئے ہیں۔اس کے علاوہ ،ان کے بہ قول بعض مالز اور دکانوں پر حکومت کے مقرر کردہ پروٹوکولز کا نفاذ نہیں کیا جارہا ہے۔

حکومت نے ہرکسی پر زوردیا ہے کہ وہ کووِڈ-19 سے بچنے کے لیے قواعد وضوابط کی پاسداری کرے۔اس نے خبردار کیا ہے کہ اگر لوگوں نے ملک میں کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے نافذ کردہ قواعد وضوابط کو نظر انداز کرنے کا سلسلہ جاری رکھا تو ان کا سختی سے نفاذ کیا جائے گا۔