.

یونان کا بحرمتوسط کے متنازع علاقے سے ترکی کے سروے بحری جہاز کی واپسی کا خیرمقدم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یونانی حکومت نے ترکی کے بحر متوسط کے متنازع علاقے میں موجود ایندھن کی تلاش کے لیے سروے کرنے والے بحری جہاز کی بندرگاہ واپسی کا خیرمقدم کیا ہے۔

ترکی کا بحری جہاز عروج ریس جنوبی بندرگاہ انتالیہ کے نزدیک پہنچ گیا ہے۔اس کی جولائی کے بعد متنازع سمندری حدود سے پہلی مرتبہ واپسی ہوئی ہے۔ تب ترکی نے تیل اور گیس کے ذخائر کی تلاش کے لیے اپنے اس جہاز کو بھیجنے کا اعلان کیا تھا۔

یونان ان پانیوں پر حقِ ملکیت کا دعوے دار ہے۔اس کا مؤقف ہے کہ ان پانیوں میں صرف اسی کو تیل اور گیس کی تلاش کے لیے سروے اور ڈرلنگ کا حق حاصل ہے جبکہ ترکی اس کے اس مؤقف کو تسلیم نہیں کرتا ہے۔

یونانی حکومت کے ترجمان اسٹلیوس پیٹساس نے اتوار کے روز اسکائی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ یہ ایک مثبت اشارہ ہے۔اب ہم یہ دیکھیں گے کہ اس پیش رفت کا کیسے مناسب جائزہ لیا جاسکتا ہے۔‘‘

یونان اور ترکی کے درمیان تیل اور گیس کو نکالنے کے لیے سمندر میں ڈرلنگ کے معاملے پرایک عرصے سے کشیدگی پائی جارہی ہے۔دونوں ممالک ہی بحر متوسط کے مشرقی علاقے پر اپنی اپنی خود مختاری اور ملکیت کے دعوے دار ہیں۔

معاہدہ شمالی اوقیانوس کی تنظیم نیٹو میں شامل یونان اور ترکی نے بحر متوسط کے مشرقی حصے میں اپنی بحری افواج بھی روانہ کی تھیں۔ترکی نے اپنے سروے جہاز کے ساتھ جنگی بحری جہاز بھی علاقے میں بھیجے تھے۔اس کے بعد یونان نے بھی علاقے میں اپنے جنگی بحری جہاز روانہ کر دیے تھے اور فرانس کے ساتھ مل کر مشترکہ جنگی مشقیں کی تھیں۔

اس کے بعد نیٹو نے مداخلت کی تھی اور دونوں ملکوں کی مسلح افواج کے درمیان مذاکرات کا اہتمام کیا تھا تاکہ ان میں سمندرمیں کسی مسلح کشیدگی سے بچا جاسکے۔