.

سعودی عرب :شہریوں اورمکینوں کے منتخب گروپوں کو 15 ستمبر سے بین الاقوامی سفر کی اجازت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب نے 15 ستمبر سے شہریوں اور مکینوں کے بعض منتخب گروپوں کو بین الاقوامی سفر کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ وہ منگل سے سعودی عرب کے زمینی ، سمندری راستوں اور فضائی اڈوں کے ذریعے بیرون ملک روانہ ہوسکیں گے اور وہاں سے واپس آسکیں گے لیکن انھیں کرونا وائرس کی وَبا کو پھیلنے سے روکنے کے لیے حکومت کی عاید کردہ پابندیوں کی پاسداری کرنا ہوگی۔

سعودی عرب میں آنے والے کسی بھی فرد کو کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے حفاظتی احتیاطی تدابیراور حکومت کے مقرر کردہ قواعد وضوابط کی پاسداری کرنا ہوگی۔ان میں سے ایک ضابطے کے تحت کسی بھی ایسے شخص کو مملکت میں داخلے کی اجازت نہیں ہوگی جس کے پاس کووِڈ-19 سے پاک ہونے کا ثبوت نہیں ہوگا۔بین الاقوامی مسافروں کے پاس کرونا وائرس کے ٹیسٹ کا منفی نتیجہ 48 گھنٹے سے زیادہ پرانا نہیں ہونا چاہیے۔

تاہم حکومت نے بعض شرائط پر پورا اترنے والے لوگوں کو بین الاقوامی سفر کی اجازت دے دی ہے اور انھیں سفری پابندی سے مستثنیٰ قرار دے دیا ہے۔جو لوگ منگل سے بین الاقوامی سفر کرسکیں گے، ان کی تفصیل حسب ذیل ہے:

سعودی شہری

سرکاری فرائض پر مامور حکومت کے ملازمین ۔ان میں سویلین اور فوجی اہلکار دونوں شامل ہیں۔

بیرون ملک سعودی سفارت خانوں اور قونصل خانوں میں خدمات انجام دینے والے ملازمین۔ان کے علاوہ مختلف اتاشی،علاقائی اور بین الاقوامی تنظیموں میں خدمات انجام دینے والے ملازمین کو بھی بیرون ملک جانے کی اجازت ہوگی۔

سعودی عرب سے باہر سرکاری ، نجی یا غیر منافع بخش اداروں کے مستقل ملازمین ۔ نیز سعودی عرب سے باہر تجارتی اداروں یا کمپنیوں میں ملازمت کرنے والے سعودی شہریوں کو بیرون ملک جانے اور وہاں سے واپس آنے کی اجازت ہوگی۔

ایسے کاروباری افراد جن کا اپنے تجارتی یا صنعتی کاروباروں یا برآمدات کے سلسلے میں بیرون ملک جانا ناگزیرہو۔مارکیٹنگ اور سیلز مینجر،جنھیں اپنے گاہکوں یا صارفین سے ملاقات کے سلسلے میں جانے کی ضرورت ہو۔

ایسے مریض جنھیں علاج کی غرض سے بیرون ملک جانے کی ضرورت ہو۔بالخصوص سرطان اور جسمانی اعضاء کی پیوندکاری کے خواہاں مریض۔مگر انھیں صرف ان کی میڈیکل رپورٹس کی بنیاد پر بیرون ملک جانے کی اجازت دی جائے گی۔

وظائف پر بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے کے لیے جانے والے طلبہ ، اپنی ٹیوشن فیس ادا کرنے والے طلبہ ، میڈیکل فیلوشپ پروگراموں کے ٹرینی، جنھیں طب کی تربیت کے لیے بیرون ملک جانے کی ضرورت ہو۔ اس استثناء میں طلبہ کے ساتھی بھی شامل ہیں۔

انسانی بنیاد پر دو طرح کے کیسوں کو بیرون ملک جانے کی اجازت ہوگی:

1۔کسی شہری کا بیرون ملک مقیم اپنے خاندان سے ملاپ کے لیے جانا۔

2۔ کسی فرد کو بیرون ملک اپنے خاوند ، بیوی ، والد یا والدہ یا بچے کی وفات پر سعودی عرب سے بین الاقوامی سفر کی اجازت ہوگی۔

ایسے شہری یا ان کے ساتھی جو بیرون ملک رہتے ہیں ، وہ اگر بیرون ملک اپنے قیام کا دستاویزی ثبوت فراہم کردیں تو انھیں سعودی عرب سے باہر جانے کی اجازت ہوگی۔

علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر کھیلوں کے مقابلوں میں حصہ لینے کے خواہاں کھلاڑیوں کے علاوہ ان کے ساتھ ٹیکنیکل اورانتظامی عملہ کو جانے کی اجازت ہوگی۔

غیر سعودی

کام ،اقامت یا وزٹ کے کارآمد ویزوں کے حامل خلیج تعاون کونسل ( جی سی سی) کے رکن ممالک کے شہریوں اور غیرسعودیوں کومملکت میں داخل ہونے کی اجازت ہوگی لیکن اس کی شرط یہ ہوگی کہ انھیں کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے حفاظتی احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ہوگی۔

قبل ازیں سعودی عرب نے یکم جنوری 2021ء کے بعد اپنے تمام شہریوں کو تمام زمینی ، سمندری راستوں اور ہوائی اڈوں سے بیرون ملک جانے اور پھر واپس آنے کی اجازت دینے کا اعلان کیا ہے لیکن اس کی شرط یہ ہوگی کہ تمام بین الاقوامی مسافروں کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے ضروری احتیاطی تدابیر کی پاسداری کرنا ہوگی۔

مقبول خبریں اہم خبریں