.

قطری بی اِن میڈیا گروپ کے ناصرالخلیفی کے خلاف فیفا عالمی کپ کرپشن کیس کی سماعت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قطر کی معروف کاروباری شخصیت اور بی ان میڈیا گروپ کے مالک ناصرالخلیفی کے خلاف سوئٹزر لینڈ کی ایک فوجداری عدالت میں آج سوموار کو فیفا عالمی کپ ٹورنا منٹ کے نشریاتی حقوق سے متعلق کرپشن کے مقدمے کی سماعت شروع ہوگئی ہے۔ان کے ساتھ اس مقدمے میں فیفا کے سابق سیکریٹری جنرل جیروم والک کو ماخوذ کیا گیا ہے۔

سوئس پراسیکیوٹرز نے فٹ بال کی عالمی فیڈریشن تنظیم (فیفا) کے سابق جنرل سیکریٹری جیروم والک اور بی اِن میڈیا گروپ کے چیئرمین ناصرالخلیفی پر فیفا کے عالمی کپ مقابلوں اور کنفیڈریشن کپ فٹ بال ٹورنا منٹوں کے نشریاتی حقوق دینے کے معاملات میں بدعنوانیوں کے الزامات پرقصور وار قراردے کر فردِ جرم عاید کی تھی۔

سوئٹزرلینڈ کے اٹارنی جنرل کے دفتر کے مطابق والک پر رشوت وصول کرنے ،مجرمانہ بد انتظامی اور دستاویزات میں جعل سازی کے الزامات میں فرد جرم عاید کی گئی ہے۔الخلیفی اور ایک اور نامعلوم شخص کو والک کو مجرمانہ بدانتظامی پر اکسانے کے الزام میں فرد جرم عاید کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ چیمپئن لیگ کا فائنل میچ کھیلنے والی پیرس کی سینٹ جرمین کلب کے صدر ناصر الخلیفی پر 2026ء اور 2030ء میں ہونے والے فٹ بال عالمی کپ کے میچوں کے ٹیلی ویژن حقوق بھاری رقوم کے عوض آگے دوسری کمپنیوں کو بیچنے کے الزام کی تحقیقات کی گئی ہے۔ ان کے ایک قریبی ساتھی کا کہنا ہے کہ جن میڈیا حقوق کی بابت تحقیقات کی گئی ہے،یہ مشرقِ اوسط اور مغربی زون سے متعلق ہیں اور ان ممالک میں بی اِن میڈیاگروپ کے ساتھ مقابلے میں کوئی اور گروپ شریک نہیں تھا۔اس مؤقف پر یہ سوال اٹھایا گیا تھا کہ اگر ایسا تھا توپھر ناصرالخلیفی نے فیفا کے بعض حکام کے ساتھ سمجھوتے کی کیوں کوشش کی تھی۔

ان کے خلاف 2018ء اور 2022ء میں ہونے والے فٹ بال عالمی کپ کے مقابلوں کی میزبانی کے حقوق دینے کے لیے نیلامی کے موقع پر فیفا کے ارکان میں رقوم اور بیش قیمت تحائف بانٹنے کا بھی الزام عاید کیا گیا تھا۔

چھیالیس سالہ ناصرالخلیفی کے خلاف چار ممالک میں فٹ بال کی عالمی فیڈریشن (فیفا) کے سابق سیکرٹری جنرل جیروم والک کو لاکھوں ڈالرز رشوت دے کر فٹ بال مقابلوں کے بیش قیمت میڈیا حقوق حاصل کرنے کے الزام میں بھی تحقیقات کی گئی ہے۔اطالوی پولیس کے مطابق انھوں نے مبیّنہ طور پر اٹلی کے علاقے سردینیا میں واقع 70 لاکھ یورو مالیت کا اپنا ایک وِلاجیروم والک کو استعمال کے لیے دیا تھا۔

گذشتہ سال مئی میں فرانس میں قطر کے ملکیتی بی اِن میڈیا گروپ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ( سی ای او) یوسف العبیدلی پر بھی بدعنوانی کے الزام میں ابتدائی فرد ِجُرم عاید کی گئی تھی۔ وہ ناصر الخلیفی کے قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتے ہیں۔

یاد رہے کہ فرانسیسی اخبار لی موندے نے نومبر 2016ء میں ایک رپورٹ شائع کی تھی۔اس میں دستاویز کے حوالے سے بتایاگیا تھا کہ بین الاقوامی تنظیم برائے ایتھلیٹکس فیڈریشن ( آئی اے اےایف) کے اس سابق عہدہ دار نے قطری سرمایہ کاروں سے 35 لاکھ ڈالرزدو اقساط میں وصول کیے تھے۔انھیں یہ رقم 2017ء میں ٹریک ورلڈ چیمپئن شپ کی میزبانی کے لیے رائے شماری سے قبل ادا کی گئی تھی۔قطر اس چیمپئن شپ کی میزبانی لندن کے مقابلے میں ہار گیا تھا لیکن بعد میں اس کو 2019ء میں ہونے والی چیمپئن شپ کی میزبانی کے لیے منتخب کر لیا گیا تھا۔

مذکورہ رقم قطری حکومت سے وابستہ سرمایہ کاری فنڈ اوریکس قطر اسپورٹس انوسٹمنٹس کی جانب سے اکتوبر اور نومبر 2011ء میں پامودزئی اسپورٹس مارکیٹنگ کو ادا کی گئی تھی۔پامودزئی فرم سینی گال سے تعلق رکھنے والے پاپا مساتا ڈیاک نے قائم کی تھی۔ وہ اس سے پہلے آئی اے اے ایف کے مارکیٹنگ کنسلٹنٹ رہے تھے لیکن ان پر 2012ء میں منعقدہ اولمپکس سے قبل روس سے تعلق رکھنے والے ایک میراتھن ایتھلیٹ سے ڈوپنگ کی پابندی عاید نہ کرنے کے عوض ہزاروں ڈالرز لینے کے الزام میں پابندی عاید کردی گئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں