.

حزب اللہ کو دہشت گرد تنظیم قرار نہ دینے پر پومپیو کی فرانس پر تنقید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے فرانس کے ایک اخبار "لو فیگارو" میں شائع ہونے والے اپنے ایک مضمون میں یہ استفسار کیا ہے کہ آیا فرانس ،،، ایران کا مقابلہ کرنے اور علاقائی امن و استحکام کو محفوظ بنانے کے لیے امریکا کے ساتھ کھڑے ہونے کے لیے تیار ہے !

مضمون میں پومپیو نے مزید کہا کہ ایران نے جوہری معاہدہ طے پانے کے بعد یمن میں حوثیوں کی سپورٹ کی اور سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات کی سمت اپنے میزائلوں کو استعمال کیا۔ اسی طرح ایران نے خلیج عربی میں جہاز رانی کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کیں اور اسے خطرے سے دوچار کیا۔

امریکی وزیر خارجہ نے یاد دہانی کرائی کہ فرانس ابھی تک لبنانی ملیشیا حزب اللہ کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے سے انکاری ہے۔ فرانس خود کو فریب دے رہا ہے کہ حزب اللہ کے دو ونگ ہیں جن میں ایک سیاسی اور ایک عسکری ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے اتوار کے روز کہا تھا کہ ان کا ملک یورپی یونین اور یورپی ممالک سے حزب اللہ کو ایک "دہشت گرد تنظیم" قرار دلوانے یا اس پر مکمل پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کرتا رہے گا۔ امریکی وزارت خارجہ کی ویب سائٹ پر جاری ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ امریکا حزب اللہ کو ایک "دہشت گرد تنظیم" قرار دینے اور اسے بلیک لسٹ کرنے کے سربیا کے فیصلے کا خیر مقدم کرتا ہے۔ دوسرے ملکوں کو بھی چاہیے کہ وہ سربیا کے فیصلے کی پیروی کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حزب اللہ کو بلیک لسٹ کرنے سے متعلق سربیا کا اعلان قابل تقلید ہے۔ اس اقدام سے ایرانی حمایت یافتہ شیعہ گروپ کی یورپ میں کام کرنے کی صلاحیت کم ہو گی۔

امریکا نے گذشتہ منگل کے روز لبنان کے دو سابق وزراء یوسف فنیانوس اور علی حسن خلیل پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔ دونوں وزیروں پر "بدعنوانی" میں ملوث ہونے اور حزب اللہ ملیشیا کو سپورٹ کرنے کے الزامات ہیں۔

امریکی وزارت خزانہ کے مطابق لبنان کی سابقہ حکومت میں جنرل ورکس کے وزیر یوسف فنیانوس اور وزیر خزانہ علی حسن خلیل حکومت سے باہر آنے کے باوجود بھی تک فعّال ہیں۔

لبنان کے دونوں وزراء پر عائد پابندیوں میں اثاثوں اور جائیداد کا منجمد کیا جانا شامل ہے۔