.

سعودی عرب کے خلاف حوثی باغیوں کے ڈرون اور میزائل حملے قابل مذمت ہیں: پاکستان

’’پاکستان، یمن تنازع کے حل کے لیے یو این کی قرارداد 2216 پر عمل درآمد کے لیے زور دیتا ہے‘‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان نے حالیہ دنوں میں یمن کی آئینی حکومت کے خلاف سرگرم حوثی باغیوں کی طرف سے سعودی عرب پر میزاٸل اور ڈرون حملوں کی مذمت کی ہے اور انہیں مملکت کی سالمیت کے خلاف قرار دے دیا ہے۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان زاہد حفیظ کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ ’پاکستان یمن کے معاملے پر سعودی عرب سے اظہار یکجہتی کرتا ہے۔‘ ترجمان کے مطابق سعودی عرب کے دفاعی اقدامات کی وجہ سے کٸ معصوم جانیں بچیں جو قابل تعریف ہے۔

’پاکستان سعودی عرب کے بیرونی جارحیت کے خلاف حق حفاظت کی حمایت کرتا ہے۔ پاکستان یمن کے معاملے پر تمام فریقین کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2216 کے مطابق پرامن مذاکرات شروع کرنے پر زور دیتا ہے۔‘

ترجمان کا کہنا تھا کہ ’ہم عرب اتحاد کی جانب سے یمن کی سالمیت کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کو سراہتے ہیں۔ تاہم اس پر مناسب ردعمل نہ آنا قابل افسوس ہے۔‘

پاکستان کو یمن میں مارب کے شہر میں حوثی باغیوں کے حالیہ فسادات پر گہری تشویش ہے۔ ’ہمیں خدشہ ہے کہ اگر مارب میں اس تنازعہ نے شدت اختیار کی تو اس سے بڑے پیمانے پر انسانی جانوں کا ضیاع ہو گا۔‘

یہ اس علاقے کے لیے مزید خطرات کا باعث ہوگا جہاں پہلے ہی ان فسادات کے سبب بے شمار انسانی جانیں ضاٸع ہوچکی ہیں اور بہت سے لوگ زخمی اور لاکھوں کی تعداد میں بے گھر ہو چکے ہیں۔

ہم تمام فریقین سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ تنازعات کے حل کے لیے محاذ آرائی ختم کر کے اقوام متحدہ سیکورٹی کونسل کی قراردادوں کی روشنی میں سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کریں اور اقوام متحدہ کے یمن کے لیے مبصر مارٹن گریفتھ کی تجاویز کا مثبت جواب دیں۔

’پاکستان جنگ پر نہیں بلکہ مساٸل کے پرامن حل پر یقین رکھتا ہے۔ اس سے ہزاروں انسانی جانیں بچاٸ جا سکتی ہیں اور یمن کے عوام کا مستقبل محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔‘