.

امن معاہدے امریکی ووٹروں کی رائے تبدیل نہیں کر سکیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکیوں نے منگل کے روز امارات اور بحرین کے اسرائیل کے ساتھ امن معاہدوں پر دستخط کے مناظر ٹی وی اسکرینوں پر دیکھے۔ اس حوالے سے امریکی صدر اور ان کی انتظامیہ یہ امید کر رہی ہے کہ اس پیش رفت کا امریکی ووٹر پر بھی اتنا ہی اثر ہو گا جتنا کہ مشرق وسطی پر ہونے جا رہا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے جنوبی باغیچے میں دستخط کی تقریب کے اختتام کے بعد وائٹ ہاؤس کی ترجمان کے دفتر نے اس اہم واقعے سے متعلق ایک پیج صحافیوں کو بھیجا۔ اس پیج کو "ڈونلڈ ٹرمپ مشرق وسطی میں امن و استحکام کے لیے کام کر رہے ہیں" کا ٹائٹل دیا گیا۔

اگرچہ جو بائیڈن اور ڈیموکریٹس اس تصویر کی حقیقت کو جھٹلانے میں کامیاب نہیں ہو سکیں گے تاہم امریکی ووٹر پر اس کا اثر یہ ایک مختلف معاملہ ہے۔ گذشتہ کئی ماہ اور ہفتوں کے دوران سامنے آنے والی سروے رپورٹوں میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ امریکا میں صدر ٹرمپ اور ان کے دوبارہ انتخاب کی مخالفت کرنے والے یہودی ووٹرز کا تناسب 70% تک پہنچ گیا ہے۔

یہ تناسب 2016ء میں ڈیموکریٹک امیدوار ہیلری کلنٹن کے لیے امریکی یہودیوں کے تناسب کے بہت قریب ہے .. اور یہ آئندہ انتخابات میں جو بائڈن کے لیے حمایت کی عکاسی بھی کر رہا ہے۔

ادھر رائے شماری سے متعلق اعداد و شمار سے واضح ہوتا ہے کہ 60% سے زیادہ امریکی یہودیوں کا خیال ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ امریکیوں میں یہودیوں کے خلاف عداوت کا سبب بن رہے ہیں۔ اس وجہ سے امریکی یہودی ٹرمپ کی مخالفت کر رہے ہیں۔

امریکی صدر نے اسرائیلی ریاست کے ساتھ رابطہ کاری باور کرانے کے لیے بھی کوششیں کی ہیں۔ مثلا انہوں نے امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کیا۔ ٹرمپ نے یہ بھی بتایا کہ ان کی بیٹی ایوانکا یہودی ہو گئی ہیں۔

اس حوالے سے امریکی انجیلی مسیحیوں کے ووٹ بھی مستقل مزاجی پر مبنی دکھائی دے رہے ہیں۔ گذشتہ انتخابات یعنی 2016ء میں انجیلی مسیحیوں نے (جن کا امریکا میں تناسب 16% ہے) اعلی تناسب کے ساتھ ٹرمپ کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ حالیہ سروے رپورٹوں میں ایک بار پھر اس بات کی تصدیق ہوئی ہے کہ مذکورہ انجیلی مسیحیوں میں 80% امریکی صدر کی پالیسیوں سے موافقت رکھتے ہیں۔ اس کا مطلب ہوا کہ صدر ٹرمپ نے ان کے ووٹوں کو برقرار رکھا ہے۔

اس بات کو واضح کرنا ضروری ہے کہ امریکی شہریوں کی ایک بڑی تعداد ٹرمپ انتظامیہ کی سرپرستی میں امن معاہدوں کو ایک اچھی پیش رفت شمار کر رہی ہے تاہم امن کو یقینی بنانے کے حوالے سے امریکیوں میں اب بھی وسیع پیمانے پر شکوک موجود ہیں۔ ان میں تقریبا 42% کا خیال ہے کہ ایسا نہیں ہو گا۔ یہ عامل امریکی صدر کے لیے مددگار نہیں ہے۔ اسی طرح خارجہ پالیسی امریکیوں کے لیے اولین ترجیح نہیں ہے بلکہ ملکی معیشت اور کرونا وائرس اور طبی نگہداشت ان کے لیے کہیں زیادہ اہم معاملات ہیں۔

امریکی صدر کئی بار یہ باور کرا چکے ہیں کہ امن کے حصول اور ایران کا مقابلہ کرنے کے سلسلے میں سابق صدر باراک اوباما اور ان کے نائب جو بائڈن کی پالیسیاں ناکام رہیں۔