.

ایران کو اسلحہ فراہم کرنے والی ہر کمپنی اور شخصیت پر پابندی لگائیں گے: امریکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے کہا ہے ایران کو اسلحہ سپلائی کرنے والی ہرکمپنی، ادارے اور فرد کو پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ امریکی حکومت کاکہنا ہے کہ اقوام متحدہ کی طرف سے ایران پر اسلحہ کے حصول پر عاید کردہ پابندیوں میں توسیع کی ہرممکن کوشش کی جائے گی۔ پابندی میں توسیع کے بعد کوئی کمپنی ایران کو اسلحہ فروخت نہیں کرسکے گی۔ اگر کسی کمپنی یا ادارے کی طرف سے ایران کے ساتھ اسلحہ کی کوئی ڈیل کی گئی تو اس کے نتیجے میں اسے امریکا کی طرف سے سخت نوعیت کی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ایران کے ساتھ اسلحہ کی ڈیل کرنے سے متعلق یہ تنبیہ ایران کے لیے امریکا کے خصوصی ایلچی ایلیوٹ ابرامز کی جانب سےایک پریس بریفنگ میں دی گئی۔ ان کی بریفنگ سے چند گھںٹے قبل امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کی جانب سے کہا گیا تھا کہ امریکا اگلے ہفتے اقوام متحدہ میں ایران پر پابندیاں عائد کرنے کی کوشش کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم ایک بار پھر ایران پر اسلحے کے حصول پر پابندی میں توسیع کرانے کے لیے کوشش کریں گے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے 14 اگست کو ایران کو اسلحہ کی فراہمی پراکتوبر میں ختم ہونے والی پابندی میں توسیع نہ کرنے پر اتفاق کیا تھا تاہم امریکا کی کوشش ہے کہ وہ ایران پر اسلحہ کے حصول پرپابندی میں توسیع کو یقینی بنائے۔

اس سے قبل ہی پومپیو نے اپنے برطانوی ہم منصب ڈومینک راب کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ واشنگٹن ایران پر عاید اسلحے کے پابندی میں توسیع کی ہرممکن کوششیں جاری رکھے گا۔

اس موقع پر برطانوی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہئیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم ایران کے جوہری ہتھیاروں کے حصول سے متعلق امریکی موقف کے تائید کرتے ہیں۔

اس سے قبل ہی راب نے ایران کو جوہری ہتھیار کے حصول سے روکنے کی ضرورت پر بھی زور دیا تھا۔

انہوں نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر ایک ٹویٹ میں انکشاف کیا کہ انہوں نے آج امریکی نائب صدر مائیک پینس کے ساتھ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کی ضرورت پر تبادلہ خیال کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے مشرق وسطی میں امن کی تازہ ترین پیشرفت پر تبادلہ خیال کیا اور کرونا وائرس کے لیے ایک ویکسین تیار کرنے کی حمایت کی۔

مقبول خبریں اہم خبریں