.

’’یواے ای اور بحرین کے اسرائیل سے معاہدوں سے خطے میں نوجوانوں کا مستقبل روشن ہوگا‘‘

امریکا نے یو اے ای اور بحرین پر اسرائیل سے معمول کے تعلقات استوار کرنے کے لیے کوئی دباؤ نہیں ڈالا:محکمہ خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے متحدہ عرب امارات اور بحرین پر اسرائیل سے معمول کے تعلقات استوار کرنے کے لیے کوئی دباؤ نہیں ڈالا ہے بلکہ ان کے اسرائیل سے امن معاہدوں سے خطے میں نوجوانوں کا مستقبل روشن ہوگا اور ان دونوں ملکوں کی قومی سلامتی اور اقتصادی خوش حالی میں اضافہ ہوگا۔

یہ بات امریکا کے ڈپٹی اسسٹنٹ سیکریٹری آف سٹیٹ ٹموتھی لینڈر کنگ نے جمعرات کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی ہے۔انھوں نے کہا کہ ’’یہ ممالک ازخود یہ کام کررہے ہیں اور اپنے قومی سلامتی کے مفادات کو سمجھ رہے ہیں۔‘‘

وائٹ ہاؤس میں گذشتہ منگل کے روز متحدہ عرب امارات اور بحرین نے اسرائیل کے ساتھ امن معاہدوں پر دست خط کیے ہیں۔ان دونوں ممالک نے مصر اور اردن کے اسرائیل کے ساتھ امن معاہدوں کے ربع صدی کے بعد معمول کے تعلقات استوار ہیں۔

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے بحرینی وزیر خارجہ عبداللطیف الزیانی اور امارات کے وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید آل نہیان کے ساتھ الگ الگ امن معاہدوں پر دست خط کیے تھے۔ان کے علاوہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ’’معاہدۂ ابراہیم‘‘ پر دست خط کیے تھے اور اس امید کا اظہار کیا تھا کہ مزید عرب ممالک بھی بحرین اور یو اے ای کی پیروی کریں گے۔

لینڈر کنگ نے بھی امریکا کی جانب سے اس خوش اُمیدی کا اظہار کیا ہے کہ مزید ممالک آگے آرہے ہیں اور وہ بھی بہت جلد (اسرائیل سے معمول کے) تعلقات استوار کررہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا:’’ ہم آیندہ امکانات کے بارے میں بہت خوش اُمید ہیں۔(معاہدۂ ابراہیم ) سے مشرقِ اوسط کے خطے میں نوجوان لوگوں کے لیے مواقع بڑھ گئے ہیں‘‘۔

ان سے جب قطر کے معاہدۂ ابراہیم کے بارے میں ردعمل کے حوالے سے سوال کیا گیا تو انھوں نے باور کرایا کہ ’’قطر کے تو اسرائیل سے برسوں سے تعلقات استوار ہیں۔ قطری عہدے دار اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کے بارے میں بہت کھلے ہیں۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ ’’اسرائیل اور قطر دونوں ہی ایک دوسرے سے معمول کے تعلقات استوار کرنے کے لیے اپنی مرضی کی رفتار سے آگے بڑھ سکتے ہیں۔‘‘

جب العربیہ نے ان سے یہ پوچھا کہ کیا ترکی قطر پر اسرائیل سے تعلقات بحال نہ کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے تو لینڈرکنگ کا کہنا تھا کہ ’’’ انقرہ نہ صرف غلط ہے بلکہ وہ اس رجحان کے بھی خلاف ہے اور وہ معاہدۂ ابراہیم کی مذمت کررہا ہے۔‘‘

مقبول خبریں اہم خبریں