.

فرانسیسی ارکان پارلیمان کا داعشی جنگجووں کے بیوی بچوں کو وطن واپس لانے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانسیسی ارکان پارلیمنٹ‌ کی بڑی تعداد نے صدر عمانویل میکروں‌ پر زور دیا ہے کہ وہ شام اور دوسرے ممالک میں 'داعشی' جنگجووں کی بیویوں اور بچوں کو وطن واپس لائیں تاکہ ان کی بہتر انداز میں دیکھ بحال ہو سکے۔ نیز وطن واپس لا کر داعشی عسکریت پسندوں کے ساتھ شادیاں کرنے والی فرانسیسی لڑکیوں کے خلاف عدالت میں مقدمات چلائے جائیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ‌ کے مطابق فرانسیسی پارلیمنٹ‌ کے 76 ارکان نے صدر عمانویل میکروں کو ایک متفقہ مکتوب لکھا ہے جس میں شام میں مختلف کیمپوں میں قید داعشی جنگجووں کے 200 بچوں اور ان کی مائوں کو واپس لانے کا مطالبہ کیا ہے۔

اخبار 'لی پیرسین' اخبار نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ فرانسیسی خاندانوں نے بچوں کے تحفظ اور ان کی مادر وطن کی واپسی کا حکومت سے مطالبہ کرنےکے لیے ریاستی سکریٹریٹ کے سامنے احتجاجی مظاہرہ بھی کیا گیا۔

خیال رہے کہ فرانس عراق اور شام سے 'داعش' کے بچوں کو واپس لانے کے حوالے سے اس شرط پرعمل کر رہا ہے کہ بچہ یتیم ہو اور والد داعش میں لڑتے ہوئے مارا گیا ہو۔ اگر بچے کے والدین زندہ ہیں تو ان کی واپسی بعد میں مسائل پیدا کر سکتی ہے۔

اگر والدین میں سے ایک زندہ ہے تو اس کی رضامندی کی ضروری ہے۔ تاہم ارکان پارلیمنٹ حکومت کے اس نقطہ نظر کے خلاف ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ریاست کو تمام بچوں کو ان کی ماؤں کے ساتھ واپس لانا چاہیے اور انہیں اپنے ملک میں سرکاری نگرانی میں دیکھ بحال کا ماحول فراہم کرنا چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ داعشی جنگجووں کی بیویوں کو عدالت میں پیش کیا جانا چاہیے۔

فرانسیسی رکن پارلیمنٹ جو داعشی بچوں کی واپسی کی مہم کے حامی ہیں نے العربیہ نیٹ کو ایک خصوصی بیان میں بتایا کہ فرانسیسی اراکین پارلیمنٹ جنہوں نے اس درخواست پر دستخط کیے وہ داعشی جنگجووں کے بچوں کے بارے میں ہر معاملے کا الگ الگ مطالعہ کرنے کے نظریہ کو مسترد کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ فرانس تمام فرانسیسی بچوں کو ان کی ماؤں کے ساتھ واپس لائے۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ شام کے کیمپوں میں بچوں کو وہاں چھوڑنے سے وہ داعش کے ہاتھوں میں آنے کے خطرے سے دوچار ہو جائیں گے۔ اگر ان بچوں کو واپس نہیں لایا جاتا تو یہ بچے کل کو داعش میں بھرتی ہو سکتے ہیں۔