.

افغان وزارت دفاع کا فضائی حملے میں 30 سے زیادہ طالبان جنگجوؤں کی ہلاکت کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغان فضائیہ کے شمالی قندوز کے مختلف علاقوں میں طالبان مزاحمت کاروں کے ٹھکانوں پر حملوں میں تیس سے زیادہ جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں۔

افغان وزارتِ دفاع نے فضائی بمباری میں صرف طالبان کی ہلاکتوں کا دعویٰ کیا ہے جبکہ طالبان کا کہنا ہے کہ لڑاکا طیاروں کے حملوں میں 23 شہری مارے گئے ہیں۔ان میں خواتین اور بچے شامل ہیں۔

وزارتِ دفاع نے ٹویٹر پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ آج (ہفتے کی )صبح صوبہ قندوز میں واقع ضلع خان آباد میں فوج کے ٹھکانوں پر حملہ کیا گیا ہے ۔فوج نے فعال دفاعی طریق کار کے مطابق اس کاجواب دیا ہے۔جوابی حملوں میں دو کمانڈروں سمیت تیس سے زیادہ جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں۔

اس کا کہنا ہے کہ وہ طالبان کے دعوے سے آگاہ ہے اور شہریوں کی ہلاکتوں کی تحقیقات کرے گی۔خان آباد کے ایک مقامی اسپتال کے ڈائریکٹر محمد نعیم منگل نے بتایا ہے کہ ان کے پاس تین مہلوکین کی لاشیں اور تین زخمی شہریوں کو لایا گیا ہے۔

افغان طیاروں کے اس حملے سے چندے بعد صدر اشرف غنی نے ایک مرتبہ پھرملک بھر میں انسانی بنیاد پر جنگ بندی پر زوردیا ہے تاکہ شہریوں کے جان ومال کا تحفظ کیا جاسکے،تشدد اور دہشت گردی کے واقعات کو روکا جا سکے اور باوقار انداز میں امن قائم کیا جاسکے۔

تاہم طالبان نے صدر اشرف غنی کی اس اپیل کا کوئی جواب نہیں دیا ہے۔ادھر قطر کے دارالحکومت دوحہ میں افغان حکومت کے نمایندوں اور طالبان کے درمیان مذاکرات جاری ہیں لیکن ابھی ان کی کوئی سمت واضح ہے اور نہ فریقین میں ان مذاکرات کے کسی ایجنڈے پر اتفاق رائے ہوسکا ہے۔دوحہ میں بین الافغان بات چیت گذشتہ ہفتے شروع ہوئی تھی اور یہ دھیرے دھیرے آگے بڑھ رہی ہے۔