.

ایران: جیل میں بند خاتون وکیل کی بھوک ہڑتال کے بعد حالت غیر، اسپتال منتقل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے دارالحکومت تہران کی بدنام زمانہ ایوین جیل میں بند معروف خاتون وکیل نسرین ستودہ کی بھوک ہڑتال کے بعد حالت بگڑ گئی ہے اور انھیں ہفتے کے روز جیل سے اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

نسرین ستودہ نے جیلوں میں قیدیوں کی حالت زار بہتر بنانے اورکرونا وائرس کی وَبا کے پیش نظر سیاسی قیدیوں کی رہائی کے لیے گذشتہ ایک ماہ سے بھوک ہڑتال کررکھی ہے۔

ان کے شوہر رضا خندان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کی اہلیہ نسرین کو دل کے عارضے،نظام تنفس بگڑنے اور فشار خون کم ہونے کے بعد طبی عملہ کے مشورے سے ایوین جیل سے تہران کے شمال میں واقع ایک اسپتال میں منتقل کردیا گیا ہے۔

نسرین ستودہ انسانی حقوق کی ایوارڈ یافتہ کارکن ہیں۔ انھیں جون 2018ء میں گرفتارکیا گیا تھا۔ان پرعدالت نے ان کی عدم موجودگی میں جاسوسی کےا لزام میں فردِ جرم عاید کی تھی اور 38 سال قید اور 148 کوڑوں کی سزا سنائی تھی۔

ایرانی قانون کے مطابق انھیں جیل سے رہائی کے لیے کم سے کم بارہ سال قید بھگتنا ہوگی۔جیل میں قید کے دوران میں انھیں اکثر طبی مراکز میں معائنے کے لیے جاتے دیکھا گیا ہے۔انھیں معدے کا عارضہ لاحق ہے اور پاؤں میں تکلیف ہے۔

57 سالہ ستودہ اپنی گرفتاری سے قبل عوامی مقامات پر سرپوش نہ اوڑھنے کی پاداش میں گرفتار کی گئی ایرانی عورتوں کے مقدمات کی پیروی کرتی رہی تھیں۔وہ عوامی مقامات پرضابطہ لباس کے خلاف احتجاج کے طور پر سرپوش اتاردینے والی خواتین اور انسانی حقوق کی کارکنان کے خلاف مقدمات میں عدالتوں میں بہ طور وکیل پیش ہوتی رہی تھیں۔

انھیں یورپی پارلیمان نے 2012ء میں ان کی انسانی حقوق کے لیے خدمات کے اعتراف میں سخاروف انسانی حقوق ایوارڈ سے نوازا تھا۔انھیں قبل ازیں 2010ء میں ایرانی نظام کے خلاف پروپیگنڈے کی تشہیر اور ریاستی سکیورٹی کو نقصان پہنچانے کی سازش کے الزام میں قصور وار قرار دے کرچھے سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔انھوں نے ان تمام الزامات کی تردید کی تھی اور انھیں قید کی تین سالہ مدت پوری ہونے کے بعد 2013ء میں جیل سے رہا کردیا گیا تھا۔

نسرین ستودہ نے اگست 2018ء میں بھی انسانی حقوق کے معروف کارکنان کی گرفتاریوں کے خلاف احتجاج کے طور پر جیل میں بھوک ہڑتال کردی تھی۔انھوں نے ایرانی سکیورٹی فورسز پر اپنے خاندان کے افراد کو ہراساں کرنے کا الزام عاید کیا تھا اور کہا تھا کہ خود انھیں بھی جیل میں ہراساں کیا گیا ہے۔