.

مصر نے فوجی سطح پر بات چیت کی ترکی کی تجویز کا کوئی جواب نہیں دیا: ذرائع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصری حکومت کے ایک ذمہ دار ذریعے کا کہنا ہے کہ قاہرہ نے ترکی کی طرف سے دونوں ملکوں کے درمیان اعلیٰ سطح پر فوجی ملاقات کی کسی تجویز کا کوئی جواب نہیں دیا ہے۔ ‌ذرائع کا کہنا ہے کہ قاہرہ کی طرف سے ترک صدر کی فوجی سطح پر ملاقات سے متعلق تجویز کا جواب اس لیے نہیں دیا کیونکہ ترکی اس وقت خطے کے کئی ممالک میں مسلسل مداخلت کر رہا ہے۔

ذرائع نے العربیہ کو بتایا کہ ترک صدر طیب ایردوآن نے کہا تھا کہ ان کا ملک مصر کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ ترک صدر کے بیان کے بعد انقرہ نے مصر کو ایک برقی پیغام بھیجا جس میں کہا گیا تھا کہ انقرہ قاہرہ کے ساتھ سیکیورٹی حکام کی سطح‌ پر بات چیت کے لیے تیار ہے۔

ترک انٹیلی جنس نے بحیرہ روم میں قدرتی گیس کے معاملے میں قاہرہ کےساتھ رابطے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

دوسری طرف ذرائع کا کہنا ہے کہ مصر نے ترکی کی طرف سے سیکیورٹی نوعیت کے رابطوں سے متعلق تجویز کوکوئی اہمیت نہیں دی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مصر کو لیبیا میں ترکی کی فوجی مداخلت پر گہرے تحفظات ہیں۔ اس کے علاوہ ترکی کئی دوسرے ممالک میں مداخلت کرنے کےساتھ ساتھ اخوان المسلمون کی حمایت کر رہا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ترکی کی کوشش ہے کہ وہ قاہرہ کے ساتھ سیکیورٹی کی سطح پر براہ راست بات چیت شروع کرے۔ اس حوالے سے ترک حکومت نے یہ ذمہ داری ترک انٹیلی جنس حکام کو سونپی ہے۔