.

چین کا امریکی پابندیوں پر جوابی اقدام، مخالف میکانزم کا اطلاق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

چین کی حکومت نے ہفتے کے روز ایک میکانزم کا اعلان کیا ہے جس کے ذریعے غیر ملکی کمپنیوں کی سرگرمیوں پر روک لگائی جا سکے گی۔ اس اقدام کو چینی کمپنیوں پر امریکی پابندیوں کا جواب شمار کیا جا رہا ہے۔

بیجنگ اور واشنگٹن کے درمیان جاری کشیدگی کے بیچ چینی وزارت تجارت کی طرف سے سامنے آنے والے اس اعلان میں کسی متعین غیر ملکی کمپنی کا ذکر نہیں کیا گیا۔

اس کے مقابل وزارت کا کہنا ہے کہ "ناقابل اعتماد اداروں کی فہرست" میں شامل کمپنیوں کو پابندیوں کا سامنا ہو گا۔ ان پابندیوں میں کمپنی پر جرمانہ، چین میں کمپنی کی سرگرمیوں، سرمایہ کاری، ملازمین اور ساز و سامان کے داخلے پر قیود عائد کرنا ہو سکتا ہے۔

وزارت تجارت نے واضح کیا کہ اس فہرست میں اپن کمپنیوں کو شامل کیا جائے گا جو چین کی قومی خود مختاری کے علاوہ سیکورٹی اور ترقی کے حوالے سے مفادات کو نقصان پہنچا رہی ہیں یا پھر بین الاقوامی اقتصادی اور تجارتی قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کر رہی ہیں۔

چین کی وزارت خارجہ کا یہ اعلان ایسے وقت میں آیا ہے جب امریکا میں اتوار سے چینی کمپنیوں کی ملکیت دو موبائل ایپلی کیشنز "ٹِک ٹاک" اور "وی چیٹ" ڈاؤن لوڈ کرنے پر پابندی عائد کی جا رہی ہے۔

چین کی وزارت تجارت نے اپنے بیان میں واشنگٹن پر "دھمکانے" کا الزام عائد کیا ہے۔ بیان میں دھمکی دی گئی ہے کہ "اگر امریکا نے اپنے یک طرفہ اقدامات کا سلسلہ جاری رکھا تو بیجنگ چینی کمپنیوں کے قانونی حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے بھرپور مطلوبہ اقدامات کرے گا"۔

یاد رہے کہ امریکا اور چین کے درمیان کشیدگی میں گذشتہ ماہ اگست میں اس وقت اضافہ ہو گیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹِک ٹاک ایپلی کیشن کو مہلت دی کہ وہ امریکا میں اپنا کاروبار فروخت کر دے۔ واشنگٹن نے کسی قابل ذکر ثبوت کو سامنے لائے بغیر ٹک ٹاک پر الزام عائد کیا کہ وہ بیجنگ کے لیے جاسوسی انجام دے رہی ہے۔

اسی طرح امریکا نے مواصلات کے چینی گروپ "ہواوے" کو اپنی بلیک لسٹ میں درج کر لیا۔ اس طرح ہواوے گروپ امریکی مارکیٹ میں داخل ہونے اور اپنے فون سیٹس کے لیے اہم امریکی ٹکنالوجی اور اجزاء کے حصول سے محروم ہو گئی۔