.

کرونا وائرس کی دوسری لہر کا سامنا کر رہے ہیں: برطانوی وزیر اعظم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے خبردار کیا ہے کہ ان کے ملک کو اس وقت "دوسری (وبائی) لہر" کا سامنا ہے جب کہ حکومت "آخری دفاعی لائن" کے طور پر پورے برطانیہ میں قرنطینہ کے نفاذ کا سہارا لینے کو خارج از امکان قرار نہیں دے رہی ہے۔

جمعے کے روز آکسفورڈ کے نزدیک زیر تعمیر کرونا ٹیسٹ مرکز کا دورہ کرتے ہوئے جانسن نے کہا کہ "اس میں کوئی شک نہیں جیسا کہ میں کئی ہفتوں سے بتا رہا ہوں کہ ہمیں ایک دوسری وبائی لہر کا سامنا ہو سکتا ہے اور اب ہم ایک لہر کو آتا ہوا دیکھ رہے ہیں"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "ہم فرانس، ہسپانیہ اور پورے یورپ میں اس کا مشاہدہ کر رہے ہیں"۔

ادھر برطانوی نشریاتی ادارے نے اخباری رپورٹوں کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر صحت میٹ ہینکوک سے سوال پوچھا کہ آیا ملک میں دو ہفتوں کے لیے ایک بار پھر جامع قرنطینہ نافذ کرنے کا امکان ہے .. تو اس پر برطانوی وزیر کا جواب تھا کہ "حکومت ملکی سطح پر قرنطینہ سے اجتناب چاہتی ہے مگر جو کچھ ضروری ہوا ہم وہ کرنے کے لیے تیار ہیں، ہم انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے لازم تمام اقدامات کے واسطے تیار ہیں"۔

یورپ میں کرونا کے سبب سب سے زیادہ (42 ہزار) اموات ریکارڈ کرنے والے ملک برطانیہ کو ایک بار پھر اس وبائی مرض سے متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافے کا سامنا ہے۔

برطانوی وزیر صحت کے مطابق ہسپتال میں زیر علاج افراد کی تعداد ہر آٹھ روز میں دو گنا ہو رہی ہے۔

قومی ادارہ شماریات کے مطابق برطانیہ میں 4 سے 10 ستمبر تک ایک ہفتے کے دوران 59 ہزار شہری کرونا سے متاثر ہوئے۔ اس کا معنی ہوا کہ ہر 900 میں ایک شہری کرونا کی لپیٹ میں آیا۔

رپورٹوں کے مطابق برطانیہ میں متاثرین کی سب سے بڑی تعداد ملک کے شمال مشرقی حصے اور دارالحکومت لندن میں ہے۔