.

امریکا کا ایران کے اسلحہ پروگراموں سے وابستہ 24 افراد اورگروپوں کے خلاف پابندیوں کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا آج سوموار سے ایران کے جوہری، میزائل اور روایتی ہتھیاروں کے پروگراموں سے وابستہ دو درجن سے زیادہ افراد اور اداروں پر نئی پابندیاں عاید کرنے کا اعلان کررہا ہے۔

امریکا کے ایک سینیر عہدہ دار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے اتنی مقدار میں جوہری مواد تیار کر لیا ہے جس سے اس سال کے اختتام تک وہ ایک جوہری بم تیار کیا جاسکتا ہے۔اس کے علاوہ اس نے شمالی کوریا کے ساتھ طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کے پروگرام میں دوطرفہ تعاون بھی بحال کردیا ہے لیکن انھوں نے ان دونوں دعووں کے حق میں کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا ہے۔

امریکا کی یہ نئی پابندیاں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے خلاف دباؤ برقرار رکھنے اور اس کو دیوار سے لگانے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔اسی ضمن میں امریکا کی ثالثی میں گذشتہ ہفتے ایران کے دو ہمسایہ ممالک متحدہ عرب امارات اور بحرین نے اسرائیل کے ساتھ امن معاہدوں پر دست خط کیے ہیں۔ان معاہدوں کے نتیجے میں ایران کے خلاف ایک طرح سے ایک وسیع تر اتحاد معرض وجود میں آیا ہے۔

امریکا ایرانی اداروں اور شخصیات کے خلاف نئی پابندیوں کے نفاذ سے ایک طرح سے اپنے یورپی اتحادیوں ، چین اور روس کو بھی خبردار کرارہا ہے اور انھیں باور کرارہا ہے کہ اگر ان کی کمپنیاں اور افراد ایرانیوں کے ساتھ کاروبار کریں گے تو وہ امریکی پابندیوں کی زد میں آئیں گے۔ نیز ٹرمپ انتظامیہ ان کی مخالفت کے باوجود ایران کے خلاف دباؤ برقرار رکھنے کی پالیسی پر عمل پیرا رہے گی۔

امریکا ان نئی پابندیوں کے حصے کے طور پر آج ایک انتظامی حکم نامہ بھی جاری کررہا ہے۔اس کے تحت جو کوئی بھی ایران سے روایتی ہتھیار خرید کرے گا، یا اس کو یہ ہتھیار فروخت کرے گا تو وہ پابندیوں کی زد میں آئے گا۔

امریکی عہدہ دار نے برطانوی خبررساں ایجنسی رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’ ایران واضح طور پر ہتھیاروں کے کاروبار میں واپسی کے لیے ہر ممکن کوشش کررہا ہے اور اگر وہ ایسا کرنا چاہے تو ایک لمحے کے نوٹس پر ایسا کرسکتا ہے۔‘‘

ان صاحب کا کہنا ہے کہ ایران 2015ء میں چھے عالمی طاقتوں سے طے شدہ جوہری سمجھوتے کے باوجود جوہری ہتھیار تیار کرنا چاہتا ہے۔واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مئی 2018ء میں اس جوہری سمجھوتے سے یک طرفہ طور پر دستبردار ہوگئے تھے اور انھوں نے اس کے بعد ایران کے خلاف پے درپے سخت اقتصادی پابندیاں عاید کردی تھیں جس کے نتیجے میں اس کی معیشت زبوں حال ہوچکی ہے۔

ویانا میں قائم جوہری توانائی کے عالمی ادارے (آئی اے ای اے) کا کہنا ہے کہ ایران نے امریکا کی نئی قدغنوں کے ردعمل میں دھیرے دھیرے جوہری سمجھوتے کی خلاف ورزیاں شروع کردی تھیں۔اس نے کم تر افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو بڑھا لیا ہے۔اس کے علاوہ اس نے مقررہ حد سے زیادہ یورینیم کو افزودہ کرلیا ہے۔

مذکورہ بے نامی امریکی عہدہ دار کے مطابق ’’ایران کی اشتعال انگیز جوہری سرگرمیوں کے نتیجے میں اس کے پاس اس سال کے اختتام تک اتنی مقدار میں کافی جوہری مواد اکٹھا ہوسکتا ہےجس سےوہ ایک جوہری بم تیار کرسکتا ہے۔‘‘ مگر انھوں نے اپنے اس دعوے کی کوئی وضاحت نہیں کی ہے اور صرف یہ کہا ہے کہ یہ امریکا کو دستیاب معلومات پر مبنی ہے۔اس میں آئی اے ای اے کی جانب سے فراہم کردہ معلومات بھی شامل ہیں۔‘۔

اقوام متحدہ کے تحت جوہری ایجنسی کا کہنا ہے کہ ایران نے امریکا کے جوہری سمجھوتے سے انخلا کے بعد بعض خلاف ورزیاں ضرور شروع کررکھی ہیں لیکن وہ ابھی تک صرف ساڑھے 4 فی صد تک یورینیم کو افزودہ کررہا ہے اور یہ جوہری سمجھوتا طے پانے سے قبل اس کی افزودہ یورینیم کی مقدار سے کہیں کم ہے۔تب وہ 20 فی صد تک یورینیم کو افزودہ کرچکا تھا جبکہ اس کو ایک جوہری بم کی تیاری کے لیے 90 فی صد مصفا یورینیم درکار ہے۔

اقوام متحدہ میں ایران کے مشن کے ترجمان سے جب امریکا کی نئی پابندیوں اور امریکی عہدے دار کے مذکورہ دعووں پر تبصرہ کرنے کے لیے کہا گیا تو انھوں نے انھیں محض پروپیگنڈا قرار دے کر مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ یہ امریکا ہی کو مزید تنہائی کا شکار کریں گے۔

ترجمان علی رضا میر یوسفی نے رائٹرز کو ای میل کے ذریعے بھیجے گئے اپنے جوابی بیان میں کہا کہ’’امریکا کا زیادہ سے زیادہ دباؤ اور ہر ہفتے نئے پروپیگنڈا اقدامات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ بُری طرح ناکام ہو رہا ہے اور نئے اقدامات اس حقیقت کی تبدیلی کا موجب نہیں بنیں گے۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ ’’ پوری دنیا یہ بات اچھی طرح سمجھتی ہے کہ حالیہ اقدامات امریکا میں نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے لیے مہم کا حصہ ہیں۔دنیا امریکا کے اقوام متحدہ میں مضحکہ خیز دعووں کو نظرانداز کررہی ہے۔ان سے وہ عالمی امور میں مزید تنہائی ہی کا شکار ہوگا۔

وائٹ ہاؤس نے آج ایران کے خلاف نئی پابندیوں کے نفاذ کے اعلان اور انتظامی حکم کے اجراء سے قبل کسی قسم کے تبصرے سے انکار کیا ہے۔ان نئی پابندیوں کے تحت کوئی بھی امریکی ادارہ یا فرد ایرانی حکام اور اداروں کے ساتھ کوئی کاروباری لین دین نہیں کرسکے گا اور ان کے اگر امریکا میں کوئی اثاثے ہیں تو انھیں ضبط کر لیا جائے گا۔