.

ایرانی رجیم 'دہشت گرد اور بد معاش' ہے:امریکی وزارت خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کل ہفتے کے روز امریکی محکمہ خارجہ نے تہران حکومت کے خلاف تمام پابندیوں کی بحالی کے لیے "اسنیپ بیک" طریقہ کار کو فعال کرنے ساتھ ہی ایران اور اس کے طرز عمل سے متعلق سال 2020 کی تفصیلی رپورٹ جاری کی ہے۔

اس رپورٹ میں ایران کی دہشت گردی کے لیے مدد، اس کے میزائل پروگرام ، خلاف قانون مالی سرگرمیوں ، سمندری تحفظ کو ایران سے خطرات ، سائبر سکیورٹی اور انسانی حقوق کی پامالی کے ساتھ ساتھ ماحول کو تباہ کرنے کے ایرانی اقدامات کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔

امریکی وزارت خارجہ کی طرف سے ایران کے برتاو سے متعلق جاری کردہ رپورٹ کو ''Outlaw System " کا نام دیا گیا ہے۔ اس میں ایران کے اندرون ملک اور بیرون ملک تخریبی کردار پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے۔

رپورٹ کا آغاز امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کے مکتوب خط سے ہوا ہے ، جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ایران کی نوعیت کے بارے میں ٹرمپ انتظامیہ میں کوئی وہم نہیں ہے۔ کیونکہ یہ ایک انقلابی بدمعاش حکومت ہے ،جو دنیا کا ایک سرکردہ ہونے کے ساتھ دہشت گردی کی پشت پناہی کررہا ہے۔ اور مشرق وسطی میں عدم استحکام کا بنیادی عنصر ہے۔

پومپیو نے کہا کہ ایران کے جوہری معاہدے سے ٹرمپ انتظامیہ کی علاحدگی ایک "ضروری اور ذمہ دارانہ فیصلہ" قرار تھا، کیونکہ یہ معاہدہ امریکی عوام اور ہمارے اتحادیوں کو تحفظ فراہم کرنے اور ایران کو جوہری ہتھیار کے حصول سے روکنے میں ناکام تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ نے ایک جامع نئے معاہدے پر بات چیت کرنے یا غیرمعمولی امریکی پابندیوں کا سامنا کرنے اور معاشی خاتمے کے لیے ایرانی حکومت کے سامنے آپشن پیش کیا تھا۔ مگر ایران نے سفارتکاری کو مسترد کرکے انقلابی ایجنڈے کو دوگنا کرنے کا انتخاب کیا ہے۔

پومپیو نے کہا کہ ایران نے معاہدے سے جو فوائد حاصل کیے ہیں ان میں اربوں ڈالر کی پابندیوں سے نجات بھی شامل ہے۔ پابندیوں میں نرمی سے حاصل ہونے والی آمدن کوایران نے تشدد اور عدم استحکام کو بڑھاوا دینے کے لیے استعمال کیا۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ واشنگٹن نے ایران کی دشمنی جاری رکھنے کے انتخاب کے جواب میں غیر معمولی زیادہ سے زیادہ دباؤ مہم چلائی۔

پومپیو نے کہا کہ ہماری پابندیوں نے ایران کو 90 فیصد سے زائد تیل برآمد کے محصول سے محروم اور 70 ارب ڈالر سے زیادہ کی آمدنی تک رسائی سے محروم کر دیا ہے۔ ایران کو یہ رقم تجارت اور دوسرے ذرائع سے حاصل ہونا تھی۔ ایران نے یہ رقم انسانی امداد کے بجائے دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے استعمال کرنا تھی۔

رپورٹ‌ میں کہا گیا ہے کہ امریکا نے ایران پر پابندیاں بحال کرکے لا تعداد ایرانیوں ، شامی شہریوں، عراقیوں ، یمنیوں اور دیگر بے گناہ شہریوں کی جانیں بچائیں۔

امریکی وزیر خارجہ نے خطے میں ایرانی حکومت کی مسلسل دہشت گردی اور خطے میں ایرانیوں کے انسانی حقوق کی پامالی کی طرف اشارہ کیا۔ اس کے علاوہ آبنائے ہرمز اور اس کے گردونواح میں بم دھماکوں اور تجارتی بحری جہازوں کو قبضے میں لینے، نیوی گیشن کی آزادی اور عالمی معاشی استحکام کولاحق خطرات کی تفصیل بیان کی۔

پومپیو نے کہا کہ ایران نے سعودی عرب میں دنیا کی سب سے بڑی تیل پروسیسنگ تنصیبات پر گذشتہ سال اپنے علاقے سے براہ راست 25 سے زیادہ کروز حملے میزائلوں اور بغیر پائلٹ کے فضائی حملے کیے۔ یہ ایک خود مختار ملک پر ایران کی کھلم کھلا جارحیت تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ صرف چند ماہ کے بعد ایران نے داعش کے خلاف جنگ کے محاذ پر عراق میں تعینات امریکی اور اتحادی افواج پر بمباری کی۔

انہوں نے نومبر 2019 میں ایران میں بڑے پیمانے پر ہونے والے مظاہروں کے دباؤ کا بھی حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تہران حکومت نے وحشیانہ کریک ڈاؤن کیا جس کے نتیجے میں 1500 ایرانی شہری ہلاک اور ہزاروں افراد کو قید کر لیا گیا۔