.

ترکی یونانی اخبار کی صدر ایردوآن کی توہین پر مبنی شہ سرخی پرسیخ پا،انقرہ میں سفیر کی طلبی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کی حکومت نے یونان کے ایک اخبار کی صدر ایردوآن کی توہین پر مبنی شہ سرخی کی مذمت کردی ہے اور ایتھنز حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس اخبار کے خلاف کارروائی کرے۔

ترک وزارت خارجہ یونانی اخبار ’’دیموکریشیا‘‘ کی اس شہ سرخی پر اس قدر خفا ہوئی ہے کہ اس نے انقرہ میں متعیّن یونانی سفیر کو ہفتے کے روز طلب کیا ہے اور ان سے ’’اخبار سے اس حرکت پر باز پُرس کا مطالبہ کیاہے۔ اخبار کا صفحہ آن لائن بھی دستیاب ہے۔

اخبار نے ترک صدر کی تصویر کے ساتھ جلی الفاظ میں توہین آمیز سرخی جمائی تھی اور ساتھ انگریزی میں اس کا ترجمہ بھی لکھا تھا۔ترک ایوان صدر کے کمیونیکشن ڈائریکٹر فخرالدین آلتن نے یونانی حکومت کے ترجمان اسٹیلیوس پیٹساس کے نام ایک خط لکھا ہے اور اس میں کہا ہے کہ ’’ میں دائیں بازو کے انتہاپسند اخبار کے صفحہ اوّل پر صدر ایردوآن کی توہین پر مبنی مواد کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔‘‘

انھوں نے یونانی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس شرم ناک کارروائی کے ذمے داروں کے خلاف کارروائی کرے۔وہ لکھتے ہیں کہ ’’کسی غیرملکی لیڈر کی توہین بے دست وپا ہونے کی علامت اور معقولیت کے فقدان کی علامت ہے۔یہ حرکت پریس کی آزادی یا آزادیِ اظہار کے زمرے میں نہیں آتی ہے۔‘‘

یونانی وزارتِ خارجہ نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا تھا کہ یورپی یونین کے رکن کی حیثیت سے ملک میں آزادیِ اظہار کا مکمل تحفظ کیا جاتا ہے لیکن جارحانہ زبان کا استعمال ہمارے اپنے سیاسی کلچر کے خلاف ہے اور اس کی مذمت ہی کی جا سکتی ہے۔‘‘