.

حوثی ملیشیا طبی امداد کی وصولی میں مسلسل رکاوٹیں ڈال رہی ہے : اقوام متحدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ نے باور کرایا ہے کہ حوثی ملیشیا کی جانب سے صنعاء کے بین الاقوامی اہوائی اڈے کی مسلسل بندش یمن میں دواؤں کی شکل میں امداد اور امدادی کارکنان کی وصولی میں رکاوٹ پیدا کر رہی ہے۔

انسانی امور کی رابطہ کاری سے متعلق یمن میں اقوام متحدہ کے دفتر نے اتوار کے روز بتایا کہ صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر فضائی پروازوں کے تعطل کے نتیجے میں 207 ٹن طبی امداد یمن پہنچنے میں تاخیر کا شکار ہو چکی ہے۔ اس امداد کو کرونا کی وبا کا مقابلہ کرنے کے واسطے استعمال ہونا تھا۔

مذکورہ دفتر نے ٹویٹر پر اپنے سرکاری اکاؤنٹ پر جاری بیان میں بتایا کہ صنعاء کے ہوائی اڈے کی بندش انسانی امداد پہنچنے کے راستے میں چیلنج بن گئی ہے۔ رواں ماہ 9 ستمبر سے اب تک کوویڈ 19 سے نمٹنے کے سلسلے میں 207 ٹن طبی مواد اور متعدد امدادی کارکنان کی وصولی ملتوی ہے۔

اتوار کی شام تک یمن میں کرونا وائرس کے مصدقہ کیسوں کی مجموعی تعداد 2026 ہو چکی ہے۔ ان میں 586 مریض فوت ہوئے اور 1227 صحت یاب ہو چکے ہیں۔ ان اعداد وشمار میں حوثیوں کے زیر کنٹرول علاقوں کی تعداد شامل نہیں ہے کیوں کہ حوثی ملیشیا وہاں کرونا کے سبب متاثرہ افراد اور موت کا شکار ہونے والوں کی تعداد پر پردہ ڈالتی ہے۔

حوثی ملیشیا نے رواں ماہ 10 ستمبر کو ایندھن ختم ہو جانے کے بہانے صنعاء کے ہوائی اڈے کو اقوام متحدہ اور دیگر تنظیموں کی امدادی پروازوں کے لیے بند کر دیا تھا۔ البتہ یمنی حکومت کا کہنا ہے کہ حوثی ملیشیا نے اپنی 50 ارب یمنی ریال سے زیادہ کی چوری پر پردہ ڈالنے کے لیے یہ اقدام کیا ہے۔ یہ رقم الحدیدہ میں پٹرولیم مصنوعات کی آمدنی سے ہتھیائی گئی جو یمن میں سرکاری شہری ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کے واسطے مختص کی گئی تھی۔

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کے معاون برائے انسانی حقوق مارک لوکک نے گذشتہ ہفتے سلامی کونسل کے سامنے خبردار کیا تھا کہ حوثیوں کی جانب سے ہوائی اڈے کی بندش کے بھیانک نتائج سامنے آئیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایندھن کی قلت کسی طور بھی ہوائی اڈے کی بندش کا جواز نہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں