.

اقوام متحدہ کی تاریخ کے نادر واقعات پر ایک نظر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کی تاسیس 24 اکتوبر 1945ء کو امریکا کے شہر سان فرانسسکو میں عمل میں آئی تھی۔ اس لحاظ سے تنظیم اپنے 75 سال پورے ہونے کی تیاری کر رہی ہے۔ اقوام متحدہ کی تاسیس کے بعد سے اب تک مختلف دل چسپ واقعات بھی سامنے آئے۔

کہا جاتا ہے کہ اقوام متحدہ کی تاریخ میں طویل ترین خطاب بھارت کے کرشنا مینن نے کیا۔ کرشنا جو بعد ازاں بھارت کے وزیر دفاع بھی رہے انہوں نے 1957 میں سلامتی کونسل کے بند کمرے کے اجلاس میں مسلسل 8 گھنٹوں تک خطاب کیا جس کے بعد وہ بے ہوش ہو گئے۔ انہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا۔ اگلے روز وہ ہسپتال سے واپس آئے اور انہوں نے اقوام متحدہ میں مزید ایک گھنٹے کا خطاب کیا۔ اس دوران ایک ڈاکٹر ان کے ساتھ رھا جو مسلسل کرشنا کا بلڈ پریشر جانچ رہا تھا۔ واضح رہے کہ بند کمرے کے اجلاس کے سبب کرشنا کے اس خطاب کی کوئی وڈیو عالمی ذرائع ابلاغ کے پاس محفوظ نہیں ہے۔

اقوام متحدہ میں دوسرا طویل ترین خطاب کیوبا کے فیڈل کاسترو نے 1960ء میں کیا۔ یہ خطاب 4 گھنٹے سے زیادہ جاری رہا۔
اقوام متحدہ کی تاریخ میں جس خطاب کو سب سے زیادہ توجہ سے سنا گیا اور جس نے دیکھنے والوں پر سب سے زیادہ اثر کیا وہ کویت کے سابق امیر شیخ جابر الصباح کا تھا۔ انہوں نے یہ خطاب 1990ء میں کویت پر عراق کے قبضے کے بعد کیا تھا۔ امیر کویت قرآن کریم کی ایک آیت کے ساتھ اپنا خطاب ختم کر کے نشست پر جا کر بیٹھے تو ان کی آنکھیں نم ناک تھیں۔ اس موقع پر تمام حاضرین نے مل کر 1 منٹ اور 23 سیکنڈ تک تالیاں بجائیں۔ یہ اقوام متحدہ کی تاریخ میں طویل ترین دورانیے تک تالی بجانے کا ریکارڈ ہے۔

امریکا کے ایک سابق صدر فرینکلن روزویلٹ نے تجویز دی تھی کہ اس بین الاقوامی ادارے کا نامUnited Nations رکھا جائے جس کو مختصراUN کے الفاظ سے جانا جاتا ہے۔ کوفی عنان اقوام متحدہ کے پہلے سکریٹری جنرل تھے جن کو امن کے نوبل انعام سے نوازا گیا۔ سال 2001ء میں کوفی عنان اور اقوام متحدہ کو مشترکہ طور پر نوبل پرائز دیا گیا۔

انڈونیشیا دنیا کا وہ واحد ملک ہے جو 1965ء میں اقوام متحدہ کی رکنیت سے دست بردار ہو گیا۔ ایک سال بعد 1966ء میں وہ دوبارہ اس بین الاقوامی تنظیم کا رکن بن گیا۔ سویڈن سے تعلق رکھنے والےDag Hammarskjold اقوام متحدہ کے واحد سکریٹری جنرل ہیں جو طیارے کے حادثے میں ہلاک ہوئے۔ سال 1961ء میں ان کا طیارہ فضا میں تباہ ہو کر پراسرار حالات میں زیمبیا میں جا گرا۔

اقوام متحدہ نے 75 ممالک میں 9 کروڑ سے زیادہ افراد کے لیے غذا پہنچانے کی ذمے داری لے رکھی ہے۔ ساتھ ہی وہ 3.4 کروڑ پناہ گزینوں کی دیکھ بھال بھی کر رہا ہے۔ علاوہ ازیں دنیا کی 58% آبادی کو ویکسین فراہم کرتا ہے جب کہ 4 براعظموں میں اس کے 1.2 لاکھ مبصرین امن مشن انجام دے رہے ہیں۔

نیویارک میں اقوام متحدہ کی عمارت کی تعمیر 1984ء میں شروع ہو کر 1952ء میں مکمل ہو گئی۔ اس کی زمین بھی عالمی ملکیت میں ہے اور اس پر امریکا حکام کا کوئی اختیار نہیں۔ اقوام متحدہ کے اپنے ڈاک ٹکٹ اور اپنا پوسٹل سسٹم ہے۔ اقوام متحدہ کی رکنیت حاصل کرنے والا آخری ملک جنوبی سوڈان ہے جو 2011ء میں تنظیم کا رکن بنا۔ اقوام متحدہ کے مجموعی ارکان کی تعداد 193 ہے۔

واضح رہے کہ 22 مارچ 1945ء کو متعدد عرب ممالک نے اقوام متحدہ کی تاسیس کی دستاویز پر دستخط کیے۔ ان میں سعودی عرب کے علاوہ مصر، عراق، لبنان، شام، اردن اور یمن شامل تھے۔ اسی روز عرب ممالک کی نمائندہ تنظیم "عرب لیگ" کی تاسیس کی دستاویز پر بھی دستخط کیے گئے۔ البتہ مذکورہ عرب ممالک میں سے کوئی بھی ویٹو کا حق نہیں رکھتا جیسا کہ امریکا، چین، روس، برطانیہ اور فرانس کے پاس ہے۔

جہاں تک اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کی ماہانہ تنخواہ کا تعلق ہے تو 1997ء میں یہ دنیا کے کسی بھی سرکاری منصب پر فائز عہدے دار کو ادا کیا جانے والا سب سے بڑا معاوضہ تھا۔ تاہم گذشتہ 23 برس سے اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ،،، اور یہ 2.7 لاکھ ماہانہ یعنی 32.4 لاکھ ڈالر سالانہ ہی رہی۔ اس کے علاوہ دی جانے والی مراعات کا حجم مذکورہ رقم کے نصف کے برابر ہے۔ لہذا اگر کوئی متوسط آمدنی کی حامل شخصیت منتخب ہو کر اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کی نشست پر براجمان ہوتا ہے تو چند برس بعد وہ کروڑ پتی کے خطاب کے ساتھ رخصت ہو گا۔