.

’’عمر میں کیا رکھا ہے؟‘‘ واک کر کے قومی دن منانے والے معمر سعودی شہریوں کا انوکھا پیغام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے جنوب مغرب میں باحہ سے عسیر تک 350 کلومیٹر سفر پیدل طے کرنے والے معمر سعودی شہریوں نے مملکت کا 90 واں قومی دن واک کلچر کو عملی طور پر فروغ دے کر منایا۔

کئی کلومیٹر واک کرنے والے بزرگ شہری سمجھتے ہیں کہ ’عمر تو صرف گنتی کا نام ہے‘۔ پیدل سفر کرنے والے سعودیوں کی عمریں 50 سے 70 برس کے درمیان تھیں۔

عایض الھجھاجی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کے نمائندہ کو بتایا کہ دراصل ہم سعودی عرب کے جنوب مغربی علاقے کے سیاح ہیں۔ پیدل سفر کرنا ہمارا مشغلہ ہے۔ مملکت کے 90 ویں قومی دن کا جشن معاشرے میں واک کے کلچر کے فروغ کے طور پر منایا ہے۔ باحہ سے ابہا تک کا سفر طے کیا۔

ذیابیطس اور دیگر امراض سے بچاؤ

انھوں نے کہا کہ کولیسٹرول، شریانوں کے سکڑنے، ذیابیطس اور دل کے امراض سمیت بہت ساری بیماریوں کا مقابلہ پیدل چل کر کرنا چاہتے ہیں۔

عایض الھجھاجی کا کہنا تھا کہ تین برس سے گروپ بنائے ہوئے ہیں۔ اب تک تین طویل سفر کیے ہیں- پہلا سفر بلجرشی سے ابہا تک۔ دوسرا سفر ابہا سے باحہ تک کیا۔ کوئی بھی سفر 350 کلومیٹر سے کم نہیں تھا۔ ہم اپنا سفر گیارہ دن میں طے کرتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ روزانہ 30 سے 40 کلومیٹر کا سفر طے کرتے ہیں۔ معاشرے کو یہ پیغام پہنچانا چاہتے ہیں کہ چہل قدمی کی ورزش اہم ہے۔ اس کی بدولت بیماریوں سے چھٹکارا حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ہمارا گروپ موسم سرما اور موسم گرما کے لیے متعدد پروگرام ترتیب دیے ہوئے ہے۔

عایض الھجھاجی نے یہ بھی بتایا کہ ہماری ٹیم میں بعض افراد ایسے ہیں جو الربع الخالی کے صحرا میں چھ سو کلومیٹر کا سفر طے کرچکے ہیں۔ ستر کلومیٹر اور 42 کلومیٹر کی طنطورۃ میراتھن میں حصہ لے چکے ہیں۔ روس اور یورپی ممالک کی 5 سے 7 بلند پہاڑی چوٹیوں پر چڑھ چکے ہیں۔ پروگرام شروع کرنے سے قبل اس کی باقاعدہ تیاری کرتے ہیں۔