.

’’آج کل میں‘‘ ایک اور عرب ملک اسرائیل سے امن معاہدہ کرنے والا ہے: امریکی سفیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی ایک اعلیٰ عہدیدار نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک اور عرب ملک آج یا کل‘‘ اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط کرنے والا ہے۔

اقوام متحدہ میں امریکا کی سفیر کیلی کرافٹ سے ’’العربیہ‘‘ کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ ’’ہمارا منصوبہ ہے کہ مزید ملک آئیں۔ ان کے ناموں کا اعلان ہم جلد ہی کرنے والے ہیں۔ ایک عرب ملک آج، کل میں ہی اسرائیل سے امن معاہدے پر دستخط کرنے والا ہے۔‘‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’’میں جانتے ہوں کہ دوسرے بھی اس میں شامل ہوں گے۔‘‘

گذشتہ مہینے متحدہ عرب امارات اور بحرین نے اسرائیل سے امن معاہدے پر دستخط کر کے اپنے تعلقات کو نارملائز کیا۔

مراکش، سلطنت آف عمان اور سوڈان کے بارے میں تواتر سے خبریں آ رہی ہیں کہ وہ تل ابیب سے سفارتی تعلقات قائم کرنے کے لیے پر تول رہے ہیں۔

کرافٹ کے مطابق امریکا پرامید ہے کہ سعودی عرب بھی اسرائیل کے ساتھ امن معاہدہ کرے گا۔ ’’ظاہر ہے کہ ہم اس امن معاہدے پر دستخط کا خیر مقدم کریں گے، تاہم اہم بات یہ ہے کہ ہم معاہدے پر توجہ مرکوز رکھیں اور ایران کو بحرین، متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کی ساکھ متاثر کرنے کی اجازت نہ دیں۔‘‘

امریکا سفارت کار کا کہنا تھا کہ ’’ہم سب کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں۔ اس سے ایرانی شہریوں کو معلوم ہو گا کہ لوگ مشرق وسطیٰ میں امن چاہتے ہیں اور وہ خود اس امن کا حصہ ہیں۔‘‘

کیلی کرافٹ نے خطے میں ایران کے تباہ کن اور بدنام کرنے والے والے رویے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔

بدھ کے روز اپنے خطاب میں سعودی فرمانروا نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کو بتایا کہ ان کے ملک نے ایران کی جانب امن کا ہاتھ بڑھایا ہے، تاہم اس کا جواب انہیں مزید دہشت گرد کارروائیوں کی صورت میں ملا ہے۔‘‘

انھوں نے کہا کہ ’’جب بھی کوئی ایران کی طرف [تعاون کا] ہاتھ بڑھائے تو اس کا ہدف ایرانی شہری ہونے چاہیں۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ ملکوں کو ’’بہت محتاط اور خبردار‘‘ رہنا چاہئے کیونکہ ایران دوسرے ملکوں کا استحصال کرنے سے باز نہیں آتا۔