.

ایران کے خلاف پابندیوں پر مکمل عمل درآمد کی توقع ہے: امریکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لندن میں امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان کریسٹین جیمز نے کہا ہے کہ واشنگٹن کو اقوام متحدہ کے ممبران کی طرف سے ایران پر پابندیوں کی مکمل تعمیل کی توقع ہے۔

جیمز نے بدھ کے روز العربیہ کو بتایا کہ ایران کے خلاف پابندیوں کا مقصد تہران کو خطے میں انتشار پھیلانے سے روکنا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی اب تک کامیاب رہی ہے۔ ایرانی معیشت کو نشانہ بنانا دہشت گردوں کی مالی اعانت روکنے میں مدد گار ثابت ہوا ہے۔

امریکی عہدیدار نے عالمی برادری کی ایران کے ساتھ برتاو کے بارے میں شکایت کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی برادری تہران کے معاملے میں درست فیصلہ نہیں کر سکی۔

قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل بدھ کے روز اقوام متحدہ میں امریکی نمائندے کیلی کرافٹ نے العربیہ کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ واشنگٹن مشرق وسطی کے خطے میں امن کا حصول چاہتا ہے۔ ان کہنا تھا کہ ایران پر پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے والے کسی بھی ملک کو سزا دی جائے گی۔

کرافٹ نے مزید کہا کہ واشنگٹن ایران کو اسلحہ فراہم کرنے والے کسی بھی ملک پر پابندیاں عائد کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران یمن میں‌ جاری خانہ جنگی کو طول دینے کے لیے حوثی جنگجووں کی مدد کر رہا ہے۔

انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ ایرانی حکومت دہشت گردی کو طاقت برقرار رکھنے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ ایرانی صدر حسن روحانی کی تقریر ایران کی دہشت گردی کی پشت پناہی کا کھلا اعتراف ہے۔

قابل ذکر بات ہے کہ فرانسیسی صدر عمانویل میکروں نے منگل کے روز اقوام متحدہ کے اجلا سے خطاب میں کہا تھا کہ فرانس ، جرمنی اور برطانیہ نے ایران کے خلاف اقوام متحدہ کی پابندیوں کے دوبارہ نفاذ کی حمایت کرنے سے انکار کو ترک نہیں کیا۔

جنرل اسمبلی کو ایک ریکارڈ شدہ تقریر میں میکروں نے کہا کہ فرانس اپنے اتحادیوں جرمنی اور برطانیہ کے ساتھ مل کر ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق 2015 کے ویانا معاہدے پر مکمل عمل درآمد کا مطالبہ کرتا رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی طرف سے کی جانے والی خلاف ورزیوں کو قبول نہیں کیا جائے گا۔