بم کی افواہ پر ایفل ٹاور بند، کئی گھنٹے کی چھان بین کے بعد کھولا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

فرانسیسی پولیس کا کہنا ہے کہ گذشتہ روز نامعلوم افراد کی طرف سے ایفل ٹاور میں بم کی موجودگی کی جھوٹی اطلاع کے بعد ٹاور کو خالی کرا لیا گیا تھا تاہم مکمل چھان بین کے بعد سیاحوں کو ٹاور میں داخل ہونے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

پولیس کے ایک ترجمان نے بتایا کہ پیرس میں مشہور سیاحتی علامت ایفل ٹاور میں بم کی موجودگی کے بعد اس کی تلاشی لی گئی تاہم وہاں سے کسی قسم کا دھماکہ خیز مواد نہیں ملا۔ مقامی وقت کے مطابق دوپہر 2 بج کر 25 منٹ پر سیاحوں کے لیے دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔

دوپہر سے پہلے کئی سو افراد کو اس وقت ایفل ٹاور سے نکالا گیا جب پولیس کو ایک کال موصول ہوئی جس میں کہا گیا کہ ٹاور میں بم نصب کیا گیا ہے۔

انخلا کا حکم جاری ہونے کے بعد سائٹ پر ایک ٹور گائیڈ نے کہا تمام سیاحوں کو منظم طریقے سے نکالا گیا۔ سیاحوں میں کوئی خوف و ہراس نہیں تھا۔

بم کی اطلاع ملتے ہی پولیس نے ایفل ٹاور کے اطراف کی تمام سڑکوں کو گھیرے میں لے۔ سائٹ پر موجود دو پولیس افسران نے "ایسوسی ایٹڈ پریس" کو بتایا کہ یہ کارروائی فون پر بم کی اطلاع پر کی گئی تھی۔ خیال رہے کہ ایفل ٹاور 131 سال پہلے تعمیر کیا گیا تھا۔ اسے فرانس میں ایک یادگار کا درجہ حاصل ہے۔ تقریبا 25 ہزار سیاح روزانہ اس کی سیر کرتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں