.

لبنان کی اقوام عالم سے تعمیر نو کے لئے مدد کی اپیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

معاشی بدحالی اور دیگر بحرانوں کا سامنا کرنے والے لبنان کے صدر میشل عون نے اقوام عالم سےاپیل کی ہے کہ وہ پچھلے ماہ ہولناک دھماکے کے نتیجے میں ہونے والی تباہی کی تعمیر نو میں مدد کریں۔

میشل عون نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ورچوئل اجلاس میں اپنا ریکارڈڈ بیان سنایا جس میں تمام ممالک سے لبنان کے مسائل کے حل میں مدد طلب کی گئی۔

لبنانی صدر کے مطابق لبنان کو اس وقت اپنی معیشت میں اصلاحات اور بیروت کی بندرگاہ کی تعمیر نو میں مدد کی اشد ضرورت ہے۔ میشل عون کا کہنا تھا کہ "بیروت کے تباہ حال علاقوں کو مختلف حصوں میں تقسیم کر کے ان حصوں کی تعمیر نو کا عمل مختلف ممالک کے سپرد کیا جاسکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ "بیروت اپنے ملبے سے اٹھ کھڑے ہونے کی کوشش کر رہا ہے اور یہ لبنانی عوام کی یکجہتی اور آپ [اقوام عالم] کی مددسے ہی ممکن ہوگا کہ اس کے زخم بھرجائیں۔ بیروت کی تاریخ میں پہلے بھی ایسے واقعات کی نظیر ملے گی۔ بیروت کے علاقوں کی تعمیر نو میں بین الاقوامی برادری کی مدد کی شدید ضرورت ہے۔"

بیروت میں 4 اگست کو 3000 ٹن امونیم نائٹریٹ سے ہونے والے ہولناک دھماکے کے نتیجے میں تقریبا 200 افراد ہلاک اور 6500 زخمی ہوگئے تھے۔ اس دھماکے کے نتیجے میں ہونے والی تباہی سے تقریبا ڈھائی لاکھ افراد بے گھر ہو گئے تھے۔علاوہ ازیں لبنان کی معیشت بھی زبوں حالی کا شکار ہےجس کی وجہ سے بے روزگاری اور غربت کا دور دورہ ہے جو کہ کرونا وائرس کے نتیجے میں مزید شدت اختیار کر گیا۔