.

حزب اللہ کی "سياسی" سپورٹ کرنے والوں کو بھی سزا دی جائے گی ، امریکا کا عندیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے حزب اللہ ملیشیا اور اس کی مدد کرنے والوں اور اس کی سرگرمیوں کے لیے فنڈنگ میں معاونت کرنے والوں پر مزید پابندیاں عائد کرنے کا اشارہ دیا ہے۔

امریکی حکومتی ذرائع نے باور کرایا ہے کہ واشنگٹن کا پیغام واضح ہے کہ حزب اللہ کی سپورٹ کرنے والے تمام عناصر کا تعاقب کیا جائے گا جن میں سیاسی سپورٹ پیش کرنے والے بھی شامل ہیں۔

امریکی حکومت طویل برسوں سے لبنان اور لبنان سے باہر حزب اللہ کے نیٹ ورک کا تعاقب کر رہی ہے۔ اس دوران حزب للہ کے زیر انتطام مالی نیٹ ورکس کو نشانہ بنایا گیا۔ خاص طور پر آخری تین برسوں کے دوران براعظم افریقا اور جنوبی امریکا میں وسیع پیمانے پر ان نیٹ ورکس کا قلع قمع کرنے کی کوشش کی گئی۔ علاوہ ازیں امریکا اس بات کے لیے بھی کوشاں رہا ہے کہ جنوبی امریکا اور یورپ کے ممالک کو قائل کیا جائے کہ حزب اللہ کا نام دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا جائے۔

امریکا دو برسوں سے حزب اللہ کے نظام سے باہر لبنانیوں پر بھی پابندیوں کا عندیہ دے رہا تھا مگر اس پر عمل نہیں کیا۔ رواں ماہ کے اوائل میں واشنگٹن نے اس سلسلے میں اہم قدم اٹھایا۔ امریکی حکومت نے دو سابق لبنانی وزراء پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا۔ واشنگٹن نے انکشاف کیا کہ سابق وزیر خزانہ علی حسن خلیل (امل موومنٹ) اور سابق وزیر محنت یوسف فنیانوس (سلیمان فرنجیہ گروپ) نے لبنان کے ملکی بجٹ کی رقوم سے ناجائز فائدہ اٹھایا اور حزب اللہ کے لیے براہ راست فنڈنگ میں سہولت کار کا کردار ادا کیا۔

گذشتہ ہفتے امریکی حکومت نے حزب اللہ کی کمپنیوں اور شخصیات پر پھر سے پابندیاں عائد کیں۔ اس دوران لبنان میں افواہ پھیل گئی کہ لبنانی شخصیات کی ایک طویل فہرست ہے جن پر امریکی پابندیاں عائد کی جانے والی ہیں۔

امریکی حکومتی ذرائع اس حوالے سے کوئی بھی تفصیل ظاہر کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔ امریکی وزارت خزانہ اور وزارت خارجہ کے اہل کاروں کا کہنا ہے کہ پابندیاں عائد کرنے کا معاملہ خالص تکنیکی نوعیت کا ہے اور حقائق ثابت ہونے میں طویل وقت لگ سکتا ہے۔

امریکی حکومت کے ذرائع کے مطابق لبنانیوں کو پیغام دے دیا گیا ہے کہ صورت حال جوں کی توں جاری نہیں رہے گی۔ امریکا لبنانی معاملے کے ساتھ نمٹنے اور حزب اللہ کے نفوذ کے انسداد کے لیے سنجیدہ ہے۔ حزب اللہ کو مدد پیش کرنے والا کوئی بھی شخص یا فریق اسے مدد کی نوعیت سے قطع نظر پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

امریکی حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ دباؤ کا سلسلہ جاری رہے گا۔ امریکی حکومت لبنان میں اصلاحات چاہتی ہے۔ آئندہ حکومت پر لازم ہے کہ وہ ان اصلاحات پر اپنی توجہ مرکوز کرے۔ اصلاحات پر عمل درامد زبانی حد تک نہیں بلکہ نمایاں اقدامات کی صورت میں نظر آنا چاہیے۔

امریکی حکومت کے پیغامات میں قابل توجہ بات یہ ہے کہ وہ اب حزب اللہ کو نہ صرف ایک دہشت گرد تنظیم کی نظر سے دیکھتی ہے بلکہ وہ اس شیعہ ملیشیا کو لبنانی ریاست کی ترقی میں ایک رکاوٹ شمار کر رہی ہے۔ لہذا جو کوئی بھی حزب اللہ کی سپورٹ کرے گا وہ مشکل کا حصہ سمجھا جائے گا جب کہ امریکا کا کہنا ہے کہ وہ لبنانی عوام کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔