.

ترکی کی جیل میں عمر رسیدہ ترک شہری ایردوآن کے انتقام کی بھینٹ چڑھ گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کی ایک جیل میں معمولی جرم میں قید عمر رسیدہ اور بیماری قیدی حکومت کی ہٹ دھرمی کے نتیجے میں دم توڑ گیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ‌ کے مطابق 80 سالہ علی بوچکان کو حال ہی میں‌ پولیس نے اس لیے گرفتار کیا تھا کہ اس نے کرد زبان میں ایک تعزیتی تقریب کا انعقاد کیا تھا۔

کرد رکن پارلیمنٹ عمر فاروق گیرگیرلی اوگلو نے بتایا کہ معمر شہری کو انتہائی معمولی کیس میں جیل میں ڈالا گیا مگر اس کے دوران اس کے خاندان کے ساتھ اس کا رابطہ نہیں کرایا گیا۔ بوچکان جیل میں طبیعت بگڑنے کے باعث دم توڑ گیا مگر حکومتی عہدیدار خاموش ہیں۔

رکن پارلیمنٹ نے علی بوچکان کی ہلاکت کی ذمہ داری صدر رجب طیب ایردوآن پرعاید کی اور کہا کہ بوچکان کو صرف اس لیے جیل میں ڈالا گیا کہ اس نے کرد زبان میں تعزیتی کیمپ قائم کیا تھا۔

بوچکان کو مشرقی ترکی کی 'اگری' ریاست کی ایک جیل میں ڈالا گیا تھا۔ وہ عمر رسیدہ ہونے کے ساتھ ساتھ کئی جسمانی عوارض کا شکار تھا مگر اسے جیل میں کسی قسم کی طبی امداد فراہم نہیں کی گئی۔

یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دوسری طرف ترک فوج پر دو زیرحراست شہریوں کو ہیلی کاپٹر سے نیچے گرانے کا الزام عاید کیا گیا ہے۔