.

یواے ای اور اسرائیل کے سائبرسکیورٹی چیفس کا مشترکہ خطرات سے نمٹنے کے طریقوں پرتبادلہ خیال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے سائبر سکیورٹی چیفس نے دونوں ملکوں کے آن لائن نیٹ ورکس کو درپیش خطرات اور ان سے نمٹنے کے طریقوں کے بارے میں تبادلہ خیال کیا ہے۔

اسرائیل کے نیشنل سائبر سکیورٹی ڈائریکٹوریٹ کے سربراہ یِگال اُنا نے جمعرات کو اپنے اماراتی ہم منصب محمد الکویتی کے ساتھ ایک آن لائن کانفرنس میں شرکت کی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’’ہمیں خطے کی نوعیت اور اپنے نئے تعلقات کے پیش نظرایک ہی جیسے خطرات کا سامنا ہے۔اس کے علاوہ ہم اقتصادی اور ٹیکنالوجی کے لحاظ سے بھی مضبوط ہیں۔‘‘

انھوں نے کہا کہ ’’ہم چیزوں کو پہلے ہی تیزی سے آگے بڑھتا ہوا دیکھ رہے ہیں۔میں بہت پُرامید ہوں کہ ہم میں بہت سی مشترکہ چیزیں ہیں اور ہم انھیں آپس میں شیئر کرسکتے ہیں۔‘‘

محمد الکویتی نے آن لائن کانفرنس میں کہا کہ ’’یو اے ای آن لائن تخریب کاری کے خطرے سے دوچار ہے۔انھوں نے سائبر دفاع کے لیے بین الاقوامی سطح پر تعاون کی تجویز پیش کی ہے۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ ’’اسرائیل ٹیکنالوجی میں بہت جانا پہچانا نام ہے اور اس سے حقیقی معنوں میں مدد ملے گی۔‘‘انھوں نے اسرائیل کے ساتھ معمول کے تعلقات کی بحالی کو اماراتی حکومت کا ایک پیشگی قدم قرار دیا ہے کیونکہ وہ اسمارٹ گورنمنٹ اور مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجیز کو بروئے کار لا رہا ہے۔یو اے ای کی سائبر سکیورٹی کی مارکیٹ کا گذشتہ سال حجم 49 کروڑ ڈالر رہا تھا۔

اسرائیل اور یو اے ای نے 15 ستمبر کو معمول کے تعلقات استوار کرنے کے معاہدے پر دست خط کیے تھے۔اس کے بعد سے دونوں ملکوں کے درمیان سائبر ٹیکنالوجیز سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کے فروغ کے لیے متعدد سمجھوتے پا چکے ہیں۔ یادرہے کہ 2019ء میں اسرائیل نے ساڑھے 6 ارب ڈالر مالیت کی سائبر ٹیکنالوجیز برآمد کی تھیں۔

اس آن لائن کانفرنس میں محمد الکویتی یا یِگال اُنا میں سے کسی نے بھی یہ نشان دہی نہیں کی ہے کہ ان کے ملکوں کو کس سے اور کیا خطرات درپیش ہیں۔تاہم اسرائیل اپنے طور پر یہ کہتا رہا ہے کہ وہ اپنے روایتی حریف ایران کے ساتھ سائبر جنگ کی حالت میں ہے جبکہ ایران اسرائیل پر اپنی حساس جوہری تنصیبات پر سائبر حملوں کے الزامات عاید کرتا رہا ہے۔