مشرقی بحیرہ روم میں ترکی کے خلاف یونان کی فوری فوجی کارروائی کا آغاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

یونانی حکومت نے ہفتے کو تصدیق کی ہے کہ اس نے ترکی کی طرف سے مشرقی بحیرہ روم کے ساحل پر فوج کی تعیناتی کے جواب میں ایجیئن جزیروں میں اپنی فوجیں تعینات کی ہیں۔

مختلف ذرائع ابلاغ سے آنے والی خبروں کے مطابق بحیرہ روم میں ترکی کے حملوں کا مقابلہ کرنے کے فیصلہ کن اقدام میں کے تحت یونانی حکومت نے ایک نئے فوجی اقدام کا اعلان کیا۔

یونانی حکومت نے کہا کہ اس نے ساحل پر ترکی کی افواج کی تعیناتی کے جواب میں ایجیئن جزیروں میں فوجی دستے تعینات کیے ہیں، تاکہ دونوں افواج ایک دوسرے کے متوازی رہیں۔

ترکی کے بڑھتے ہوئے فوجی اقدامات اور ان کے بارے میں یونانی رد عمل دونوں ممالک کے مابین کشیدگی کو فروغ دینے کا باعث بنا ہےجس پر یورپی ممالک نے بھی انقرہ کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ یورپی ممالک کا کہنا ہے کہ ترکی کی جانب سے بحیرہ روم میں فوجی مداخلت اور قدرتی وسائل کی تلاش یورپی مفادات کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

مشرقی بحیرہ روم میں ترک حکومت کی پالیسی سے یونان کو تشویش لاحق ہے اور اس خطے میں تناؤ میں اضافہ ہوا لیکن ایسے لگتا ہے کہ صدر رجب طیب ایردآن کے اس طرز عمل نے ایتھنز کو بہت سے فوائد کا موقع فراہم کیا ہے۔ ان میں‌ سفارتی اور فوجی فواید شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں