.

آرمینیا میں آذر بائیجان سے جھڑپوں کے بعد مارشل لا کا نفاذ ،تمام فوج کو نقل وحرکت کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آرمینیا نے آذر بائیجان کے ساتھ مسلح جھڑپوں کے بعد مارشل لا کے نفاذ کا اعلان کیا ہے اور تمام افواج اور نیم فوجی دستوں کو نقل وحرکت کا حکم دیا ہے۔

آرمینیا کے وزیراعظم نیکول پشینیان نے اتوار کی صبح متنازع علاقے ناگورنو قراباغ میں آذر بائیجان کی فوج کے ساتھ لڑائی کے بعد مارشل لا نافذ کیا ہے۔آرمینیا نے آذربائیجان کی مسلح افواج پر ناگورنو قراباغ میں گولہ باری کا الزام عاید کیا ہے جبکہ باکو نے آرمینیا کی فورسز پر فوج اور شہری اہداف پر حملوں کاالزام عایدکیا ہے۔

آرمینیا کی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی مسلح افواج نے ناگورنو قراباغ کے متنازع علاقے میں آذر بائیجان کے چار ہیلی کاپٹر ، پندرہ ڈرونز اور دس ٹینک تباہ کردیے ہیں۔آذربائیجان نے آرمینیا کی فوج کی گولہ باری سے ایک ہی خاندان کے پانچ افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔آذر بائیجان کی جوابی کارروائی میں آرمینیا میں سولہ افراد ہلاک اور کم سے کم ایک سو زخمی ہوگئے ہیں۔

ترکی نے اس لڑائی میں آذر بائیجان کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے اور آرمینیا پر زوردیا ہے کہ وہ جارحیت سے باز آجائے۔آذر بائیجان سے الگ ہونے والے علاقے ناگورنو قرا‌باغ میں دونوں ملکوں کی فوجوں کے درمیان اتوار کی صبح شدید لڑائی چھڑ گئی تھی۔

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے اس کے ردعمل میں ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’’میں آرمینیائی عوام پر زوردوں گا کہ وہ اپنی قیادت کے مقابلے میں اپنا مستقبل اپنے ہاتھ میں لیں۔ان کی قیادت انھیں تباہی کی جانب لے جارہی ہے اور وہ لوگ بھی جو اس کو ایک آلہ کار کے طور پر استعمال کررہے ہیں۔ ہم پوری دنیا سے بھی سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ آذربائیجان کا جارحیت اور سفاکیت کے مقابلے میں جنگ میں ساتھ دیں۔‘‘

ان سے پہلے ترک وزیر دفاع حلوسی عکار نے ایک بیان میں کہا کہ ’’ہم اپنے آذربائیجانی بھائیوں کی ان کی علاقائی سالمیت کے تحفظ کی جنگ میں تمام ذرائع سے مدد کریں گے۔‘‘

ترکی کی جانب سے آذر بائیجان کی مکمل حمایت کے اظہار پر آرمینیا کے وزیراعظم نیکول پشینیان نے عالمی برادری پر زوردیا ہے کہ وہ انقرہ کو اس تنازع میں مداخلت روکے اور وہ ناگورنو قراباغ کے تنازع پر آرمینیا کے خلاف لڑائی میں آذر بائیجان کی حمایت میں نہ کودے۔

آذر بائیجان اور آرمینیا کے درمیان عشروں سے ناگورنو قرا‌باغ کی ملکیت پر تنازع جاری ہے اور دونوں ملکوں کی فوجوں کے درمیان 2016 کے بعد پہلی مرتبہ شدید جھڑپیں ہوئی ہیں۔

ترکی کے آذر بائیجان کے ساتھ تاریخی ، ثقافتی اور لسانی تعلقات استوار ہیں جبکہ اس کے آرمینیا کے ساتھ سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔دونوں ملکوں کے درمیان گذشتہ صدی کے دوسرے عشرے میں عثمانی فوج کے ہاتھوں آرمینیائی باشندوں کے مبیّنہ قتل عام پر تنازع چلا آرہا ہے۔ آرمینیا اس کو نسل کشی قرار دیتا ہے۔