.

اسرائیل کے آیندہ دو روز میں کسی اورعرب ملک سے امن معاہدے کا امکان نہیں : ذرائع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل کا آیندہ دو ایک روز میں ایک اور عرب ملک کے ساتھ امن معاہدے کا امکان نہیں جبکہ میڈیا اس کے برعکس اطلاع دے رہا ہے۔

اسرائیلی حکومت کے ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ اتوار اور سوموار کو یہود کی چھٹی کادن ’’ یوم کپور‘‘ منایا جارہا ہے،اس کے پیش نظراس بات کا زیادہ امکان ہے کہ کسی عرب ملک سے امن معاہدے پر دست خط نہیں کیے جائیں گے۔

اقوام متحدہ میں امریکی سفیر کیلی کرافٹ نے گذشتہ بدھ کو ایک بیان میں کہا تھا کہ آیندہ دو ایک روز میں ایک اور عرب ملک اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے پر دست خط کردے گا۔امریکا دوسرے ممالک سے بھی اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات استوار کرنے کے بارے میں بات چیت کررہا ہے۔

اسی ماہ اسرائیل نے دو عرب ممالک بحرین اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ امن معاہدوں پر دست خط کیے ہیں اور ان دونوں ممالک کے ساتھ باضابطہ طور پر سفارتی تعلقات استوار کر لیے ہیں۔اس طرح اب تک اسرائیل کے چار عرب ممالک کے ساتھ تعلقات استوار ہوچکے ہیں۔ باقی دوممالک اردن اور مصر ہیں۔

وائٹ ہاؤس کے چیف آف اسٹاف مارک میڈوز نے 18 ستمبر کو ایک بیان میں کہا تھا کہ پانچ مزید ممالک اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کرنے پر سنجیدگی سے غور کررہے ہیں۔ان میں سے تین ممالک مشرقِ اوسط میں واقع ہیں۔

بعض میڈیا اطلاعات کے مطابق یہ تین ممالک عُمان ، سوڈان اور مراکش ہیں۔عُمان نے یو اے ای اور بحرین کے ساتھ معمول کے تعلقات استوار کرنے کے اعلانات کا خیرمقدم کیا تھا اور واشنگٹن میں متعیّن عُمانی سفیر نے وائٹ ہاؤس میں 15 ستمبر کو منعقدہ دست خطوں کی تقریب میں شرکت کی تھی۔

سوڈان کے اعلیٰ سطح کے وفد نے گذشتہ ہفتے امریکی حکام سے متحدہ عرب امارات میں ملاقات کی تھی اور انھوں نے خطے میں امن واستحکام اور اسرائیلی ، فلسطینی تنازع کے دو ریاستی حل سے متعلق تبادلہ خیال کیا تھا۔

اگست میں امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے سوڈان کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کے بارے میں بیان دیا تھا۔ تاہم سوڈانی وزیراعظم عبداللہ حمدوک نے ان پر واضح کیا تھا کہ انھیں اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کا مینڈیٹ حاصل نہیں ہے۔

سوڈان کی خود مختار کونسل کے سربراہ جنرل عبدالفتاح البرہان کی قیادت میں ایک وفد گذشتہ اتوار کو یو اے ای پہنچا تھا اور انھوں نے امریکی حکام سے مختلف امور کے بارے میں تبادلہ خیال کیا ہے۔

اس وفد کی خرطوم واپسی کے بعد سوڈان کی حکمراں خود مختار کونسل نے بدھ کو ایک بیان میں کہا تھا کہ طرفین نے سوڈان کے خطے میں قیامِ امن میں ممکنہ کردار کے بارے میں بھی گفتگو کی تھی۔

سوڈان نے وزارت خارجہ کے سابق ترجمان حیدر صادق کو خرطوم اور اسرائیل کے درمیان روابط کے بارے میں بیان بازی پر فارغ کردیا تھا۔انھوں نے متحدہ عرب امارات کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کے فیصلے کو دلیرانہ اور بہادرانہ قرار دیا تھا۔