.

ایران کی سپاہِ پاسداران انقلاب کے نئے بحری بیلسٹک میزائل کی رونمائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب نے اتوار کے روز اپنے ایک نئے بیلسٹک میزائل کی نقاب کشائی کی ہے۔مقامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق یہ میزائل 700 کلومیٹر (430 میل) سے زیادہ مار کرنے کی صلاحیت کا حامل ہے۔

ایران کی نیم سرکاری خبررساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ’’ذوالفقار بصیر‘‘ نامی یہ میزائل زمین سے زمین پر مار کرنے والے بیلسٹک میزائل ذوالفقار کی بحری شکل ہے۔یہ ایرانی بحریہ کے پاس موجود دوسرے بیلسٹک میزائلوں سے دُگنا مار کرنے کی صلاحیت کا حامل ہے۔

ان میں ’’ہُرمز دوم‘‘ میزائل بھی شامل ہے۔یہ 300 کلومیٹر تک مار کرنے کی صلاحیت کا حامل ہے ۔ایران نے مارچ 2017ء میں اس کے کامیاب تجربے کی اطلاع دی تھی۔تاہم تسنیم نے یہ نہیں بتایا کہ آیا ہنوز اس نئے میزائل ذوالفقار بصیر کا بھی تجربہ کیا گیا ہے یا نہیں۔

البتہ ایجنسی نے اس نئے میزائل کی بعض تصاویر جاری کی ہیں۔تہران کے نیشنل ایروسپیس پارک کی افتتاحی تقریب کے موقع پر ذوالفقاربصیر کو ایک لانچر ٹرک پر نصب دکھایا گیا ہے۔

واضح رہے کہ ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب نے 2017ء اور 2018ء میں شام میں داعش کے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی میں ذوالفقار بیلسٹک میزائل کو استعمال کیا تھا۔

ایرنا کے مطابق اس بیلسٹک میزائل کو اس سال کے اوائل میں عراق میں امریکی فوج کے اڈوں پر بھی داغا گیا تھا۔ پاسداران انقلاب نے یہ حملہ جنوری میں بغداد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر اپنے کمانڈر میجر جنرل قاسم سلیمانی کی امریکا کے فضائی حملے میں ہلاکت کے ردعمل میں کیا تھا۔