.

آرمینیا اور آذر بائیجان کی لڑائی میں ترکی کی مداخلت، انقرہ پرجنگجو بھیجنے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آذر بائیجان اوراس کے پڑوسی ملک آرمینیا کے درمیان تازہ لڑائی شروع ہونے کے بعد آرمینیا نے ترکی پراس جنگ میں بے جا مداخلت اور آذر بائیجان کی شامی اجرتی جنگجوئوں کے ذریعے مدد کا الزام عاید کیا ہے۔
خیال رہے کہ آذر بائیجان اور اس کے پڑوسی ملک آرمینیا کے علاقے 'ارٹزاخ' جسے مقامی سطح‌پر 'ناگورنو قرہ باغ بھی قرار دیا جاتا ہے میں اتوار کی صبح جھڑپیں‌ شروع ہوئی تھیں۔ دونوں طرف سے فوجوں نے ایک دوسرے کے خلاف بھاری ہتھیاروں، جنگی طیاروں، ٹینکوں اور توپ خانے کا استعمال کیا ہے۔
خیال رہے کہ سنہ 1992ء کو سابق سوویت یونین کے سقوط کے بعد آذر بائیجان نے آرمینیا میں شامل ہونے سے انکار کردیا تھا۔
میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہےکہ ترکی آذر بائیجان اور آرمینیا کے درمیان جنگ کی آگ کو بھڑکا رہا ہے۔ ترکی پر شام سے تعلق رکھنے والے چار ہزار جنگجوئوں کو اس جنگ میں جھونکنے کا الزام عاید کیا ہے۔ اتوار کے روز ترک وزیر دفاع خلوصی آکار نے کہا تھا کہ ان کا ملک پڑوسی ملک آذر بائیجان کا تمام ذرائع سے مدد کرے گا۔
آرمینیا کی وزارت دفاع کے ترجمان شوشان اسٹیبانیان نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ لڑائی میں آذر بائیجان کی فوج کے ساتھ ساتھ شام کے اجرتی جنگجو بھی شامل ہیں۔ متنازع علاقے 'آرٹساخ' کے صدر آرائیک ھاروٹیونیان نے بھی لڑائی میں شامی اجرتی جنگجوئوں کی شمولیت کا دعویٰ کیا ہے۔
آذر بائیجان اور آرمینیا کے درمیان عشروں سے ناگورنو قرا‌باغ کی ملکیت پر تنازع جاری ہے اور دونوں ملکوں کی فوجوں کے درمیان 2016 کے بعد پہلی مرتبہ شدید جھڑپیں ہوئی ہیں۔


ترکی کے آذر بائیجان کے ساتھ تاریخی ، ثقافتی اور لسانی تعلقات استوار ہیں جبکہ اس کے آرمینیا کے ساتھ سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔دونوں ملکوں کے درمیان گذشتہ صدی کے دوسرے عشرے میں عثمانی فوج کے ہاتھوں آرمینیائی باشندوں کے مبیّنہ قتل عام پر تنازع چلا آرہا ہے۔ آرمینیا اس کو نسل کشی قرار دیتا ہے۔


آرمینیا کے سرکاری ذرائع کے مطابق آرمینین اور آرٹساخ کی فوج کے درمیان تعاون جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ آرمینیا کی فوج ارٹساخ کے عوام کی سلامتی اور تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گی۔


ذرائع کا کہنا ہے کہ شام سے تعلق رکھنے والے 4000 جنگجوئوں کو آذر بائیجان کی مدد کے لیے تعینات کیا گیا ہے۔ یہ جنگجو شام سے تعلق رکھتے ہیں اور انہیں ترکی کی پشت پناہی حاصل ہے۔ آرمینیا کی انفارمیشن ایجنسی کے مطابق لڑائی کے دوران اب تک کم سے کم 81 شامی اجرتی جنگجو ہلاک ہوچکے ہیں۔


ادھر آذر بائیجان کی حکومت نے غیرملکی جنگجوئوں کی جنگ میں‌موجودگی کی خبروں کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔
شام میں انسانی حقوق کی صورت حال پر نظر رکھنے والے ادارے آبزر ویٹری نےبھی ہزاروں شامی اجرتی جنگجوئوں کی آذر بائیجان روانگی کی تصدیق کی ہے۔