.

ترکی اور آذر بائیجان نے آرمینیا کا لڑاکا طیارہ مارگرانے کی تردید کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی اور آذر بائیجان نے آرمینیا کا ایک لڑاکا طیارہ مارگرانے کی تردید کردی ہے۔آرمینیا نے منگل کے روز یہ دعویٰ کیا ہے کہ اس کا ایک لڑاکا طیارہ ترکی کے ایف 16 لڑاکا جیٹ نے مارگرایا ہے۔

آرمینیا کی وزارت دفاع کی خاتون ترجمان شوشان اسٹیپنیان نے کہا ہے کہ آذر بائیجان سے الگ ہونے والے علاقے ناگورنو قراباغ میں لڑائی کے دوران میں لڑاکا جیٹ ایس یو 25 کو مار گرایا گیا ہے اور اس کا پائیلٹ ہلاک ہوگیا ہے۔

ترک صدر رجب طیب ایردوآن کے معاون خصوصی برائے پریس فخرالدین آلدون نے اس دعوے کو مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ یہ بالکل ’’نادرست‘‘ ہے۔

انھوں نے کہا ہے کہ ’’آرمینیا کو اوچھے پروپیگنڈا کے بجائے اپنے زیر قبضہ علاقوں سے دستبردار ہوجانا چاہیے۔‘‘

آذر بائیجان کی وزارتِ دفاع کے ترجمان وظیف دیارگاہلی نے بھی اس دعوے کو مسترد کردیا ہے اور اس کو ’’آرمینیائی پروپیگنڈے‘‘ کا ایک اور جھوٹ قرار دیا ہے۔‘‘

آرمینیا نے دو روز پہلے ترکی پر آذر بائیجان کی افواج کی کمک کے طور پر مسلح جنگجو بھیجنے کا بھی الزام عاید کیا تھا لیکن ترکی نے اس الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس نے کوئی جنگجو نہیں بھیجے ہیں۔ تاہم اس نے آذر بائیجان کی مکمل حمایت کا اظہار کیا تھا۔

فخرالدین آلدون نے ٹویٹر پر ایک بیان میں کہا تھا کہ ’’ترکی آذربائیجان کی آرمینیا کے زیر قبضہ علاقوں کو واگزار کرانے کے لیے مدد کا پختہ عزم رکھتا ہے۔وہ بین الاقوامی قانون کے تحت آذربائیجان کے حقوق اور مفادات کے دفاع کی حمایت کرتا ہے۔‘‘

ادھر نیویارک میں آج اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا آج خصوصی اجلاس ہورہا ہے ،اس میں آذر بائیجان اور آرمینیا کے درمیان گذشتہ دو روز سے جاری لڑائی سے پیدا ہونے والے بحران پرغور کیا جارہا ہے۔ آلدون نے اس اجلاس سے قبل ترکی کی جانب سے اس امید کا اظہار کیا تھا کہ ’’اقوام متحدہ کا اجلاس (بحران کے) حل کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرے گا۔‘‘